( ملفوظ 26 ) خیر کا مفضی الی الشر ہو جانا

ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جی ہاں کبھی خیر بھی مفضی الی الشر ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس خیر کا کرنے والا حقیقت سے بے خبر ہے مثلا خرچ کیا اور نیت یہ ہے کہ دوسرے دیکھ کر مجھ کو سخی سمجھیں تو خرچ کرنا خیر تھا مگر نیت کی وجہ سے ریا ہو گیا تو مفضی الی الشر ہو گیا ۔ وجہ وہی ہے کہ حقیقت ریا سے بے خبری یا عدم اہلیت اور اگر خرچ کی یہ صورت ہے کہ اظہار کر کے خرچ کیا مگر نیت یہ ہے کہ دوسرے بھی دیکھ کر اللہ کے واسطے خرچ کریں جس کا حاصل یہ ہے کہ اظہار سے ترغیب دینا مقصود ہے تو یہ خیر کا خیر ہیv رہا اس کی وجہ صرف حقیقت سے باخبری البتہ بخل کے علاج کے موقع پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خرچ کرو چاہے ریا ہی ہو مثلا ایک شخص ہے بخل کے علاج کے لیے اس کی اجازت دی جائے گی کہ خرچ کرو ، گو ریا ہی سے ہو تا کہ اس کو عادت تو پڑے پھر اخلاص کی تعلیم کر دی جائے گی ۔