آج صبح کی مجلس میں ملفوظ نمبر 79 ) میں جو ایک نو وارد متمول صاحب سے گفتگو نقل کی گئی ہے ان کے متعلق حضرت والا نے فرمایا کہ صبح ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی دو قسم کے لوگوں سے گفتگو ہوئی ایک تو وہ جو ان کے مابکل ہم خیال ہیں انہوں نے ہمہ تن موافقت کی اور ایک وہ جنہوں نے بالکل مخالفت کی میں نے یہ کیا کہ اصل مقصد میں موافقت اور طریق کار میں اختلاف کیا اور میرا اختلاف بالکل اصول صحیحہ پر منطبق تھا الحمداللہ میرے اندر بے پروائی نہیں ہاں میں تابع تو بننا نہیں چاہتا تابع شریعت ہی کے رہنما چاہیے اب اگر کوئی کام شریعت کے موافق ہے تو مجھے شرکت سے خدمت سے انکار نہیں اگر خلاف شریعت ہے تو میں شرکت سے معزور ہوں میں ہمیشہ اس کا خیال رکھتا ہوں جہاں کسی نے مولویوں کے ذمہ کام ڈالا میں نے فورا اس کو بھی ایک کام بتلادیا بس اس سے ان کی سب فضولیات ختم ہو جاتی ہیں ـ یہ دنیا دار باتیں ہی بناتے ہیں جب کام سر پڑتا ہے تو محض ناکارہ ثابت ہوتے ہیں ان کی رگ میں ہی پہچانتا ہوں اب یہ گئے ہیں مگر جو کچھ کریں گے دیکھ لیجئے اور سن لیجئے وجہ یہ کہ اس میں طریق کار میں نے ایسا بیان کردیا کہ جس میں ان کو خود بھی کچھ کرنا پڑے گا اور یہی ٹیڑی کھیر ہے ـ
