ایک صاحب کے خط کے جواب میں حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ کئی مہینے تک خط کا نہ بھیجنا دلیل ہے ضعف طلب کی اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ یہ بھی راز ہے میرے یہاں تاخیر بیعت کا اس پر فرمایا کہ آجکل بیعت بھی منجملہ اسباب افتخار کے ہوگئی ہے طلب نہیں ہے میں ضابطہ کے تعلق کو نہیں سمجھتا خلوص کے تعلق سمجھتا ہوں اور خلوص بھی وہ جس میں فلوس کو بھی دخل نہ ہو یہ بھی تجربہ کی بات ہے کہ یہ پیری مریدی کا تعلق اس سے قبول کرنا چاہیئے جس پر حکومت کر سکے نیز مرید ہونے کے قابل وہ شخص ہے کہ جس کو پہلے سے محبت ہو خلوص ہو اس میں بڑی مصلحتیں اور راحتیں ہیں ـ
