ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ خرچ کے انتظام کے لئے تھوڑے سے بخل کی ضرورت ہے مگر وہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں بدون اس کے انتظام ہونا دشوار ہے یہ تجربہ کی بات ہے کہ اس سے حضرت حاجی صاحب کے ایک قول کی تائید ہوتی ہے کہ افعال رذیلہ بھی اپنی ذات میں مذموم نہیں اس کو اگر صحیح محل میں صرف کیا جاوے تو محمود ہے ـ
مولانا ارشاد فرماتے ہیں
شہوت دنیا مثال گلخن ست ، کہ از وحمام تقوی روشن است
( دنیا کی شہوت مثل بھٹی کے ہے کہ اس سے تقوی کا حمام روشن ہے 12 )
