( ملفوظ 27 ) ہر چیز میں انتظام و سلیقہ کی ضرورت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انتظام و سلیقہ کی ہر چیز میں ضرورت ہے جو شخص انتظام پر قادر نہ ہوگا وہ فسخ انتظام میں بھی گڑ بڑ کرے گا یہ تجربہ کی بات ہے کہ پھوھڑ عورت کی حکایت ہے ایک روز خاوند سے کہا کہ میاں لاؤ گگلے پکا لو خاوند نے جواب دیا کہ تیرے بس کا کام نہیں تو رہنے ہی دے کہا کہ میں بالکل ہی پھوھڑ ہوں کہ کچھ کر ہی نہین سکتی غرض اس نے آٹا اور مٹھائی لے کر پانی ڈالکر ملانا شروع کیا پانی زیادہ پڑگیا پتلا ہو گیا آٹا کڑہی میں پھیل گیا خاوند نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تہا کہ تیرے بس کا نہیں کہا کہ میں چلے پکا لوں گی اس نے کہا تجھ سے یہ بھی نہ ہوگا کہا کہ واہ ایسی کیا بات ہے غرض چلے بنانے بیٹھی آٹا توے پر سے ٹپکنے لگا اس کی اطلاع خاوند کو دی اس نے کہا کہ میں تو پہلے کہ چکا ہوں کہ تیرے بس کا کام نہیں ہے کہ میں لپسئی بنا لوں گی اس نے کہا یہ بھی تیرے بس کا کام نہیں غرض ہنڈیا چڑھا کر پکانا شروع کیا ہنڈیا جل گئی اس کی اطلاع خاوند کو دی اس نے کہا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ تیرے بس کا کچھ نہیں کہا میں پھینک آونگی اس نے کہا کہ تجھ سے یہ بھی نہ ہوگا غرض چھت پر جا کر راستہ میں پھینک دیا کوئی معزز آدمی جا رہا تھا ہنڈیا اس کے سر پر پڑی اس نے گالیاں دیں اور الٹھ لے کر چڑھ گیا تب خاوند نے کہا دیکھا میں نے نہکہتا تھا کہ تیرے بس کا نہیں پٹوانیکا انتظام کر دیا دیکھیے ہر انتظام کی فسخ میں بھی بے انتظامی ظاہر ہوئی ـ