ملفوظ 187: خط کے جواب میں تاخیر نہ کرنا فرمایا ! کہ مجھ کو ڈاک کا بڑا اہتمام ہے کہ روز کے روز فارغ ہو جاؤں اس میں طرفین کو راحت ہوتی ہے ادھر تو میں فارغ مجھے راحت ادھر خط کا جواب پہنچ جائے اس کو راحت ـ انتظار کی تکلیف نہ ہو ـ آج ہی مولوی صاحب سہارن پور سے صرف اس سبب سے آئے کہ ان کے خط کے جواب میں ایک دن کی دیر ہو گئی تھی اس لئے خود آئے محض اس خیال سے کہ کھانسی کی تکلیف تھی کہیں زیادہ تکلیف تو نہیں بڑھ گئی جو جواب نہیں بھیجا اور علاوہ اس کے دور دراز سے خطوط آتے ہیں جن میں نئی نئی ضروریات ہوتی ہیں اس لئے روزانہ ڈاک نمٹا دیتا ہوں اپنی طرف سے اس کا انتظام رکھتا ہوں کہ دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور انتظار کی تکلیف تو مشہور ہے ـ
