ملفوظ 186: مسلسل کام کی برکت اور حضرت کا معمول ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں مہمان بھی آتے ہیں ـ ڈاک کا کام بھی بڑا زبردست ہے اور بھی مختلف کام مختلف لوگوں کے ہوتے رہتے ہیں ـ اور گھر کے تمام معاملات کا بھی انتظام اور پھر اس قدر تصانیف ! فرمایا کی یہ حق تعالی ہی کا فضل ہے بات یہ ہے کہ مہمان آتے ہیں مگر متبوع ہو کر نہیں آتے اسلئے سہل ہو جاتا ہے ـ
ایک مرتبہ حضرت مولانا رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے ـ میں اس وقت مثنوی کی شرح لکھ رہا تھا ـ وقت معمول پر میں نے مولانا کی آسائش اور راحت کا انتظام کرکے اجازت چاہی کہ میں تھوڑا سا لکھ آؤں فرمایا جی ضرور ! آپ حرج نہ کریں ـ میں نے یہ کیا کہ تھوڑا سا کام کر کے فورا حاضر ہو گیا ـ اگر تھوڑا تھوڑا کام بھی روزانہ ہوتا رہے تو ایک برکت ہوتی ہے مداومت کی ـ اگر سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس میں ایک قسم کی بے برکتی ہو جاتی ہے ـ
