( ملفوظ 530)خط کے ذریعہ قربانی کی وکالت

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں قربانی کرنا چاہتا ہوں اس کی تفصیل لکھی ہے کہ ایک تو حق تعالی کی خوشنودی کے لئے اور ایک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے اور ایک آپ کی طرف سے فرمایا کہ تشخیص کا عنوان اچھا نہیں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ پار سال جو ہم نے قربانی کے لئے بکرے خریدے تھے یہاں پر تو چار روپیہ میں آئے تھے اس حساب سے تین بکروں کی قیمت بارہ روپیہ ہوئی ایک روپیہ احتیاط کا تیرہ تیرہ روپیہ بھیجتا ہوں اگر اجازت ہو ( جواب ) بکرے بکری کی قیمت بدلتی رہتی ہے کیا خبر کتنے میں آئیں اس پر فرمایا کہ میں اپنی قربانی خود کروں گا کیا معلوم ہے اس وقت لکھ رہے ہیں نیت بدل جائے یا خط ہی نہ پہنچے یا اور کوئی گڑبڑ ہو جائے ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا خط کے ذریعہ سے بھی وکالت ہو سکتی ہے فرمایا ہو سکتی ہے ۔