ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کو تو جمع غائب کا صیغہ یاد ہے یعنی جو جمع آئی غائب کر دی اور ہندوؤں کے یہاں جمع حاضر کا یہ جو کچھ جمع کر لیتے ہیں اس میں سے پھر صرف نہیں کرتے ایک صاحب نے ایک مہاجن کی حکایت بیان کی جس کو میں مہاجن بکسرالجیم کہا کرتا ہوں یعنی بڑا جن کو وہ بیمار ہوا علاج نہ کرتا تھا بے حد مالدار تھا لوگوں نے بمشکل علاج پر آمادہ کیا کہ اچھا تخمینہ کراؤ علاج میں کس قدر صرف ہو گا طبیب کو بلایا گیا نبض دکھلائی نسخہ لکھا طبیب نے انداز سے بتلایا کہ ایسا مرض ہے اس میں اس قسم کی دوائیں استعمال ہوں گی اور اتنے زمانہ تک غرض یہ کہ ایک مجموعی مقدار تخمینہ بتلا دی کہ یہ صرف ہو گا تو وہ کہتا ہے کہ اب یہ دیکھو کہ مرنے میں کیا صرف ہو گا حساب لگایا تو مرنے میں علاج سے کچھ کم صرف بیٹھا اس نے کہا کہ جس میں کم صرف ہو وہی کام ٹھیک ہے لہذا مرنا ہی بہتر ہے کیا ٹھکانا ہے ۔ انتہائی حکایت ہے اور چاہے حکایت صحیح ہو یا غلط اصول تو ان کے قریب قریب ایسے ہی ہیں ۔
