ملفوظ 249: خشوع کے حاصل کرنے کا طریقہ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خشوع کیسے حاصل ہو ـ فرمایا کہ خشوع کی حقیقت شرعیہ اس کی حقیقت لغویہ ہی کی ایک فرد ہے یعنی یہ ایک لغت ہے جس کے معنی ہیں سکون ـ پس قلب کے سکون کو خشوع کہتے ہیں اور سکون قلب مقابل ہے قلب کی حرکت کے ـ اور یہ حرکت قلب کی وہی ہے جس کو منطقی حرکت فکریہ کہتے ہیں ـ پس اس حرکت کا مقابل یہ ہے کہ فکر میں حرکت نہ ہو بلکہ سکون ہو یعنی افکار میں حرکت نہ کرے یہ نہایت مناسب عنوان ہے اس عنوان سے مسئلہ کا اختیاری ہونا ظاہر ہوتا ہے آ گے افکار میں حرکت نہ کرنیکا قابل طریقہ قابل تحقیق رہ گیا ـ سو وہ طریقہ یہ ہے کہ ایک محمود شے کی طرف متوجہ ہو جائے اس سے دوسری حرکات غیرمحمودہ بند ہو جائیں گی ـ یہ تجربہ ہے اس سے یکسوئی ہو جاتی ہے پھر یہ کہ وہ شے کیا ہے سو اس کے طرق معتدد ہیں مثلا یہ سوچ لے کہ خانہ کعبہ سامنے ہے ـ یا اگر الفاظ کی طرف توجہ آسان ہو یہ کر لے ـ یا معانی کی طرف توجہ کرے یا اگر ذات بحت ( یعنی حق تعالی کی ذات ) کی طرف توجہ ہو سکے تو سب سے اولی ہے ـ اب سوال یہ رہا کہ جس چیز کی طرف بھی توجہ کرنا ہو توجہ کس درجہ کی رکھے جس سے خطرات نہ آویں سو اس کے متعلق تجربہ سے معلوم ہوا کہ زیادہ کنج وکاؤ ( کھود و کرید) کرنا موجب ثقل ہے معتدل توجہ کافی ہے ـ جس کا درجہ ایک مثال سے بیان کرتا ہوں اور وہ بالکل الدین یسر ( دین آسان ہے ) کے مطابق ہے باقی اس سے زائد عسر ( تنگی میں پڑنا ) ہے ـ سو عسر ے لئے حدیث میں لن تحصوا فرمایا ہے یعنی اس پر عادۃ قدرت نہیں ہے وہ مثال یہ ہے کہ ایک کچا حافظ ہے اس کو استاد کا حکم ہوا کہ نفلوں میں قرآن شریف سناؤ یہ حافظ سنانے کے وقت یقینا بے توجہی سے تو ہرگز نہ پڑھے گا کیونکہ یاد نہیں سوچ کر پڑھے گا ـ لیکن اس درجہ کی سوچ بھی نہ ہوگی کہ دوسری شے کا بالکل تصور ہی نہ آئے بلکہ یہ توجہ اوسط درجہ کی ہو گی کہ نہ غلفت ہو گی اور نہ ایسی کاوش کہ اس کا غیر بالکل ہی ذہن میں نہ آئے بس ایسی توجہ عبادت میں تحقق خشوع کے لئے کافی ہے اگر اسی درجہ خشوع کا انتظام و اہتمام ہو جائے تو بس مامور بہ ادا ہو گیا ورنہ حدیث من شاق شاق اللہ علیہ (جو شخص اپنے اوپر مشقت ڈالتا ہے اللہ تعالی اس کو مشقت میں مبتلا کرما دیتے ہیں ) کا مصداق ہو گا اب اگر اس درجہ کے ساتھ دوسرے وساوس مستحضر بھی ہو جائیں تو مضر نہیں لیکن غیر مامور بہ کا یہ استحضار اس نے نہیں کیا یہ اس کا فعل نہیں لہذا یہ اس کا مکلف بھی نہیں ـ اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے آنکھ سے کسی خاص لفظ کو قصدا دیکھیں تو اس کے ساتھ اس کے ماحول پر بھی ضرور نظر جاتی ہے مگر چونکہ یہ نظر قصدا نہیں اس لئے یہی کہیں گے کہ فلاں لفظ خاص دیکھا ـ ماحول کو خود نہیں دیکھا ـ بلکہ نظر آ گیا تو جیسے یہ انتشار شعاع بصر میں ہوتا ہے اسی طرح بصیرت میں بھی ہوتا ہے کہ قصد تو ایک خاص چیز کی طرف ہے مگر بلا قصد دوسری چیز پر نگاہ جا پڑٰی ـ ایک مرتبہ اس مضمون کو میں نے امروہہ کے وعظ میں بہت بسط سے بیان کیا تھا لوگ بہت متنفع اور مسرور ہوئے تھے ـ سو علم تو اس مسئلہ کا کافی طور پر ہو گیا آ گے عمل کی ضرورت ہے ـ بہت سے سالک اس میں مبتلا ہیں کہ تدبیر معلوم ہے اور عمل نہیں کرتے ـ اس معلوم ہو جانے ہی کو گویا حصول مقصود سمجھتے ہیں حتی کہ بہت سے مشائخ اس بلا میں مبتلا ہیں کہ تدبیر جانتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے مگر ہم ایسی تدیبر کو لے کر کیا چولہے میں ڈالیں جب عمل ہی نہیں ـ
