ملفوظ 147: “” کیا میں جا سکتا ہوں ،، کا محاورہ

“” کیا میں جا سکتا ہوں ،، کا محاورہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ میرے یہاں تو ایک یہ بھی مسقل تعلیم ہے کہ بات صاف کہو جیسے آج کل بولتے ہیں کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کیا مہمل بات ہے ـ یہاں پر ایک صاحب مہمان تھے دوسرے مہمان کو اسٹیشن پہنچانے کے لئے جانا چاہا تو جانے کے وقت مجھ سے کہنے لگے کہ کیا اسٹیشن جا سکتا ہوں ـ میں نے کہا کیوں نہیں جا سکتے خدا نے پیر دیے چلنے کو ـ آنکھیں دیں دیکھنے کو ـ قوت ارادیہ دی ارادہ کرنے کو ـ اس لئے آپ جا سکتے ہیں ـ یہ خرافات ہیں اور یہ عیسائیوں سے لیا ہے ان میں کوئی نیا محاورہ نہیں قدیم عیسائیوں نے کہا تھا ـ حضرت عیسی علیہ السلام سے ـ ھل یستطیع دبک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء عیسائیوں سے مسلمانوں نے بھی یہ محاورہ سیکھ لیا ہے برا معلوم ہوتا ہے ـ