ملفوظ 51: کیفیات اور اعمال کا فرق

فرمایا ! کہ آجکل لوگ کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو کہ غیر مقصود ہیں گو یہ
کیفیات غیر مقصودہ لذیذ ہوتے ہیں ـ جیسے مرچ ہے کہ تغذیہ میں غیر مقصود ہے مگر لذیذ ہے ـ اور
اب تو لوگ ان کیفیات کو مقصود سمجھ کر گویا نری مرچوں کا سالن کھاتے ہیں کیا حاصل ہوتا ہوگا نری
آگ ہی آگ ہے ایسے ہی علوم غیر مقصودہ میں جیسے چکنے چپڑے مضامین ہوتے ہیں وہ علوم مقصودہ میں نہیں ہوتے اس کی بالکل ایسی مثال ہے ـ
دیکھئے ! اگر روپیہ کا سکہ خوب صورت نہ ہو تو پھر بھی چونسٹھ ہی پیسے ملیں گے اور یہ شیشہکا ٹکڑا یارانگہ کا ٹکڑا گو بہت چمکدار اور خوب صورت معلوم ہوتا ہے مگر بازار میں نہ چلے گا ـ اسی
طرح بازار آخرت میں کیفیات یا لذات جو حقیقت کے اعتبار سے گویا شیشہ یا رانگہ کا ٹکڑا ہے نہیں چلیں گے ـ
اور اعمال جن کی حقیقیت سکہ ہے یہ چلیں گے ـ ایک اور مثال سے سمجھ لیجئے ایک شخص ہے
اس نے چمن لگایا اس میں قسم قسم کے پھول لگائے انہیں سینچا ایک بڑا خوب صورت اور گلزار چمن
بن گیا ـ اور ایک شخص ہے اس نے دو بیگھ زمین لے کراس میں گیہوں بو دیئے ـ اب دیکھنے
میں چمن بہت خوشمنا ہے گلزار ہے اور گیہوں کا کھیت اس کے سامنے خوشنمائی میں کوئی حقیقت نہیں
رکھتا مگر جس وقت ثمرہ کا وقت آئے گایا کاٹنے کا تو اس چمن کی حقیقت گیہوں کے سامنے اس سے
زیادہ نہ ہوگی جیسے ایک منہیار چوڑیوں کی گٹھڑی لگائے جا رہا تھا ـ ایک گنوار نے اس میں لاٹھی کا
سر ا مار کر پوچھا کہ ابے اس کیا ہے اس بے چارے نے کہا کہ چودھری ایک دفعہ اور مار دو
پھر کچھ نہیں ـ اسی طرح اس گیہوں کے کھیت کے سامنے یہ چمن کچھ بھی نہ ہوگا اس وقت معلوم ہوگا
کہ اس کے سامنے یہ پھول خار ہیں اور یہ چمن اجاڑ ہے ـ غرضیکہ اس چمن کی کچھ بھی حقیقت نہ
ہوگی ـ وجہ وہی ہے جو میں نے عرض کی ـ مقصود اور غیر مقصود ہونے کا تفاوت تو انسان کو مقصود
کاموں میں لگنا چاہئے اور غیر مقصود کے درپے نہ ہونا چاہئے ـ
اسی طرح اختیاری اور غیر اختیاری کے مسئلہ کو سمجھ لیا جائے کہ اختیاری کاموں کو کرے
اور غیر اختیاری کے درپے نہ ہو ـ پھر دیکھنا اس طریق میں کیسی سہولت معلوم ہونے لگتی ہے کام کی
باتوں میں عمر کا حصہ صرف کرو ـ کیوں فضول اور بے کار باتوں میں اپنی عمر کے حصہ کو خراب اور برباد کرتے ہیں ـ