ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بدعتی بھی بہت محنت کرتے ہیں فرمایا کہ خاک محنت کرتے ہیں اور کرتے بھی ہوں تو مقصود زیادہ محنت پر تھوڑا ہی موقوف ہے اول تو ان کے یہاں محنت ہے ہی تھیں محض حکایات ہی حکایات ہیں اس میں کچھ کرنا نہیں پڑتا اور طریق صحیح میں
کرنا پڑتا ہے اور اگر کچھ محنت کرتے بھی ہیں تو ان کی اس محنت کا ثمرہ آخرت میں تو تصلی نارا حامیۃ
( اور آتش سوزاں میں داخل ہو گے ) ہے اور دنیا میں عاملۃ ناصبۃ ( بوجہ مصیبت جھیلنے کے بہت سے چہرے خستہ ہونگے ) ـ
