لطیف کھانا زیادہ سڑتا ہے فرمایا ! کہ یہ مثنوی میں مولانا کے اشعار ہیں ظالم آں قومے کہ چشماں دوختند ٭ از سخن ہا عالمے را سوختند نکتہ ہا چوں تیغ پولا دست تیز ٭ چوں نداری تو سپر واپس گریز خلاصہ یہ ہے کہ جیسے صحیح تصوف نے بہت سے لوگوں کے ایمان کی تکمیل کر دی اسی طرح نا اہلوں کے ہاتھوں اسی سے بہت سے لوگوں کا ایمان بھی غارت ہو گیا ـ دیکھئے طعام لطیف جب خراب ہوتا ہے تو عام طعام سے زیادہ خراب ہوتا ہے اور جلد بھی ہوتا ہے ـ
