( ملفوظ 366 ) لوگوں کی بدفہمی کی حد نہیں رہی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کی بدفہمی کی بھی کوئی حد نہیں یہ کہ ایک شخص ہے ( یہ شخص بے اجازت آ گیا تھا ) اس نے کئی سال سے اذیتیں پہنچانے پر کمر باندھ رکھی ہے مجھ کو اس شخص کی صورت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے گو اس وقت جو تازہ تکلیف دی ہے وہ کوئی بڑی تکلیف نہیں اور ایک تکلیف تو ایسی پہنچائی ہے کہ اگر یہ بھی سو برس زندہ رہے اور میں بھی تو اس کا اثر نہیں جا سکتا ۔ وہ یہ ہے کہ اس شخص نے مجھ کو لکھا تھا کہ میری حالت افلاس کی ہے اگر کوئی صورت افلاس سے خلاصی کی نہ ہوئی تو میں عیسائی ہو جاؤں گا ، میں ہر چند چاہتا ہوں کہ اس سے قلب میں ذہول ہو جائے مگر نہیں ہوتا کیا کروں ، وہ یاد آ کر قلب میں کانٹا سا چھبتا ہے مجھ کو تو لوگ بدنام کرتے ہیں اس کو کوئی نہیں دیکھتا کہ نالائق موذی لوگ کیا کرتے ہیں اگر یہ شخص آنے کے وقت بذریعہ خط مجھ سے اجازت لے لیتا تو میں اجازت دے دیتا مگر کچھ شرائط کے ساتھ خدانخواستہ میں کوئی جلاد نہیں ہوں ، قصائی نہیں ہوں مگر بدون اجازت آ دھمکے نہ کوئی اصول نہ کوئی قاعدہ سو یہ خودرائی اور حکومت اور آزادی کی صورت مجھ کو گوارا نہیں اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ اگر یہ واقعہ کسی کو نہ معلوم ہو جو میں نے اس شخص کا بیان کیا اور محض میرا اس وقت کا برتاؤ دیکھئے تو آخر کیا کہے گا کہ بڑا ہی ظلم کیا بے چارے پر اور اس کے ظلم کوئی بھی نہ سنتا ۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ جو جس کے ساتھ میں برتاؤ کرتا ہوں اس میں میری کوئی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ اسی کی مصلحت ہوتی ہے اور اس کی بھی کیا اس کے دین کی مصلحت ہوتی ہے ۔ خوب اچھی طرح پر کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ طریق میں جس کا بھی داخل ہونے کا ارادہ ہو اس کو چاہیے کہ وہ تابع بن کر داخل ہو جو اس کی حالت کے مناسب ہو گا اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا ذرا برابر رعایت نہ ہو گی اور ذرا سی بات پر بھی درگزر نہ کیا جائے گا ۔ ایسا تسامح کرنے کو میں خیانت سمجھتا ہوں ۔ ہاں اگر طریق میں داخل نہ ہوں تو پھر میں پاخانہ اٹھانے کو تیار ہوں مگر طریق میں داخل ہونے کی نیت سے آ کر دق کرنا یہ کونسا طریق ہے اور یہ طریق کا کون سا ادب ہے اگر میری خدمت تربیت کے لیے پسند نہیں دوسری جگہ جاؤ اور جب یہ چاہتے ہو کہ ہماری خدمت کی جائے تو تابع بن کر آؤ یہ کونسا انصاف ہے کہ مصلح کا کیا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ تم کو روک ٹوک کر سکے ۔ عجیب فلسفہ ہے جس میں اس کو مقید بھی کریں یہ تو کھلی بے انصافی ہے ۔ ایک بی بی تین مرتبہ آ چکی ہیں اور تینوں دفعہ محروم گئیں ۔ سمجھتی ہوں گی کہ اس سے زیادہ کوئی سخت نہیں اور آج سلیقہ سے آنا ہوا سب دفعہ کی کلفت جاتی رہی ۔ اب کہتی ہوں گی کہ اس سے زیادہ کوئی نرم نہیں حلانکہ میں سخت ہوں نہ نرم میں تو اصول کے ماتحت کام کرتا ہوں یہی دوسروں سے چاہتا ہوں باقی کسی کا اصول اور سلیقہ سے کام کرنے کا قصد نہ ہو اس کی تو فصد ہی لیجائے گی یہی ناگوار ہوتا ہے کیونکہ مذاق وہ ہو رہا ہے جیسا حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ کسی گرو کے پاس ایک شخص گیا کہ چیلا بنا لو ، گرو نے کہا چیلا بننا بڑا مشکل ہے تو کہتا ہے کہ گرو ہی بنا لو ، یہ لوگ گرو بننے آتے ہیں سو میں بھی گرو بنا کر بھیجتا ہوں ، میرے یہاں ان سب شرائط اور صورتوں کا مشترک مقصد حصول مناسبت ہے ان سب تدابیر سے مناسبت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی سے اذیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے منصب کے خلاف کر رہا ہے ، محروم رہے گا ۔