ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کیا ٹھکانا ہے ترفع کا عموما چھوٹی چھوٹی قومیں اپنے حسب و نسب ہی کو چھپانا چاہتی ہیں اور بڑے خاندانوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں مگر شرعا یہ بڑا گناہ ہے پھر علاوہ گناہ کے ان چیزوں میں کیا رکھا ہے کام کی باتیں کرنا چاہیے یعنی وہ کام کرو جس سے ذلت گلوگیر نہ ہو پھر خود بخود معزز ہو جاؤ گے قوم کو کوئی دیکھے گا بھی نہیں ۔ اصل عزت افعال کی ہے نہ کہ قوم کی اب شرفاء ہی کو دیکھ لیا جائے جو جیسے عمل کر رہا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ لوگ برتاؤ کرتے ہیں باقی بعض لوگوں کا یہ خیال کہ شرفاء ہم کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں یہ بالکل غلط ہے اخلاق و افعال میں جو جس درجہ کا ہوتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو شرفاء کے لیے بھی عام ہے اگر وہ ذلیل کام کرتے ہیں ان کو بھی ذلیل سمجھا جاتا ہے پھر غیر اختیاری چیز پر کسی کو کیا حق ہے کہ دوسرے کو حقیر سمجھے ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ اگر کسی کی دونوں آنکھیں ہوں تو شکر تو واجب ہے مگر اندھوں کو حقیر سمجھنا تو جائز نہیں ہے ۔
