ملفوظ 181: لوگوں کی روایات سے متاثر نہ ہونا

ملفوظ 181: لوگوں کی روایات سے متاثر نہ ہونا فرمایا ! کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہاں پر کوئی روایت کسی شخص کی کوئی نہیں پہنچا سکتا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ بات تو یہاں پر خاص ہے ورنہ قریب قریب اکثر بزرگوں کے یہاں سلسلہ حکایت شکایت کا کم و بیش رہتا ہے ـ فرمایا جی ہاں ! بحمداللہ میں ان باتوں کا خیال رکھتا ہوں عرض کیا کہ حضرت سنتے ہی نہیں نیز حضرت کے اصول اور قواعد اس قسم کے ہیں کہ اس کے خلاف کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا اگر ضوابط میں ذرا ڈھیل دی جاتی یہاں پر بھی سلسلہ جاری ہو جاتا فرمایا کہ ڈھیل کے متعلق سنیے ـ حاجی عبدالرحیم بھائی مرحوم کے ملازم تھے ان کے متعلق میرے بڑے گھر میں سے ایک معاملہ میں مجھ سے شکایت کی ـ میں نے فورا آدمی بھیج کر حاجی جی کو بلایا اور دروازہ میں کھڑا کر کے کہا کہ تمہارے متعلق یہ ورایت بیان کرتی ہیں اور تم نے دعوی کیا ہے لہٰذا ثبوت دو ثبوت تمہارے ذمہ ہے ثبوت ندارد ـ کہنے لگیں کہ توبہ تم تو ذرا سی دیر میں آدمی کو فضیحت کر دیتے ہو ـ میں نے کہا کہ میں فضیحت نہیں کرتا نصیحت کرتا ہوں یہ سلسلہ روایات

اچھا نہیں معلوم ہوتا اس سے دل میں عداوتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور جہاں یہ سلسلہ ہے وہاں ہر وقت ہر شخص کو یہ شبہ رہتا ہے کہ نہ معلوم میری طرف سے کسی نے کیا کہہ دیا ہو گا اور کہنے سے کیا خیالات پیدا ہو گئے ہونگے اور یوں تو ہمارے حضرات سب ہی حکماء تھے مگر ہمارے ان بزرگوں میں سے دو بزرگوں میں خصوصیت کے ساتھ یہ صفت یعنی روایات سے متاثر نہ ہونا بہت ہی کامل تھی ـ ایک حضرت حاجی صاحبؒ میں اور ایک حضرت مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ میں مولانا تو سنتے ہی نہ تھے شروع میں ہی در کر دیتے ـ اور حضرت حاجی صاحبؒ کا عجیب معمول تھا کہ سب سن لیتے تھے دوسرے دیکھنے والوں کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت پر بڑا اثر ہو رہا ہے اور جب بیان کرنے والا خاموش ہوا حضرت نے بے تکلف فرما دیا کہ یہ سب غلط ہے وہ شخص ایسا نہیں اور اس کہنے کا یہ مطلب تھا کہ چاہے واقع میں صحیح ہو مگر چونکہ شرعی شہادت نہیں اس لئے اس کے ساتھ کذب کا سا معاملہ کیا جائے یہی محمل ہے آیت کا ـ جو حق تعالی فرماتے ہیں ـ فاذلم یاتوا بالشھداء فاولئک عنداللہ ھم الکذبون ۔ ( سو جس صورت میں یہ لوگ موافق قاعدہ کے گواہ نہیں لائے تو پس اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں ) عنداللہ سے مراد ہے یہاں پر فی دین اللہ فی قانون اللہ یعنی شریعت کے قانون ک رو سے تم جھوٹے ہو تمہارا کہنا سب غلط ہے پس اس تقریر کے بعد یہ شبہ نہ رہا کہ محتمل الصدق کو جزما کیسے کاذب فرما دیتے تھے ـ حکیم محمد مصطفی صاحب نے اس آیت سے ایک عجیب مسئلہ استنباط کیا ہے کہ حسن ظن کیلئے تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ـ سوء ظن کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ـ