ملفوظ 180: خانقاہ کی ہر بات نرالی و دل کش

خانقاہ کی ہر بات نرالی و دل کش ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں پر تو ساری ہی باتیں نرالی ہیں جیسی نماز خانقاہ میں ہوتی ہے ایسی نماز شاید ہی کہیں ہوتی ہو ـ دریافت فرمایا کہ یہ کیوں ؟ عرض کیا کہ قریب قریب سب جگہ پر یہ حالت ہے کہ امام کو ذرا دیر ہو جائے فورا غل مچ جاتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے یہاں پر یہ بات نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر جمہوریت نہیں شخصیت ہے یہ اس کی برکت ہے فرمایا کہ ہمارے بزرگ بھی اللہ کے فضل سے بڑے ہی حکیم تھے ـ ان کی ہر ہر بات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ـ یہاں پر تھانہ بھون میں جو جگہ ممتاز ہے وہ حوض والی مسجد ہے وہاں پر بھائی برادری کے لوگ رہتے ہیں ـ محلہ بھی برادری کا ہے اثر کیلئے بھی جگہ مناسب تھی اور نفع کی بھی امید زائد بھی اس لئے کہ ان سے کسی بات میں کوئی تکلف ہی نہ ہوتا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ وہ بھی اپنا اثر ڈالنا چاہتے برادری برادری کا معاملہ ہے ہمارے بزرگوں نے رہنے کیلئے اس غریب جگہ کو پسند کیا اس ممتاز جگہ کو پسند نہیں کیا حکمت یہ ہی ہے کہ یہاں پر کوئی مزاحم نہیں اس محلہ میں زمیندار آباد نہیں غریب لوگ آباد ہیں یہاں زمینداری بزرگوں کی ہے یہاں پر محلہ کے غریب لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں پر بالکل آزادی ہے بس اس کا مصداق ہے ؎ بہشت آ نجا کہ آزارے نباشد ٭ کسے رابا کسے کارے نہ باشد ترجمہ : بہشت وہ ہے کہ جہاں کسی کو کسی سے کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی کو کسی سے کوئی کام نہ ہو ـ