ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ مال سے محبت ہونا طبعی بات ہے شیخ احمد دحلان نے فتوحات اسلامیہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمرفاروق کے سامنے بعد فتح فارس جب خزائن لائے گئے تو انہوں نے جناب باری میں عرض کیا کہ اہے اللہ ہم کو اس کی تو دعا نہیں کرتے کہ اس کی محبت ہمارے دل سے نکل جائے کیونکہ یہ تو آپ کی پیدا کی ہوئی ہے ۔
کما قال تعالی زین للناس حب الشھوات الخ
ہاں اس کی دعا ہے کہ اس مال کی محبت آپ کی محبت میں معین ہو اور اس کا معیار یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی موقع ہو کہ مال خرچ کرنے میں اللہ و رسول کی مرضی حاصل ہوتی ہو اور صرف نہ کیا جائے تو یہ محبت خود ذات مال سے ہے اور ناپسندیدہ ہے اور اگر صرف کیا جائے تو اس کو ذات مال کی محبت نہ کہیں گے ۔
