ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نورفہم تقوی سے پیدا ہوتا ہے گو زیادہ لکھا پڑھا نہ ہو ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ پاؤں دبوا رہے تھے ۔ ایک گاؤں کا شخص آیا اس نے کہا کہ مولوی جی بڑا جی خوش ہوتا ہو گا کہ ہم پیر دبوا رہے ہیں فرمایا کہ راحت کی وجہ سے تو خوشی ہے مگر بڑے ہونے کی وجہ سے خوشی نہیں ہوتی تو وہ گاؤں والا کیا کہتا ہے کہ مولوی جی پاؤں دبوانا تمہیں جائز ہے کیا ٹھکانا ہے اس گاؤں والے کی کہاں نظر پہنچی ہے یہ دین کی برکت ہے ۔ یہ تقوی اور دین بھی عجیب برکت کی چیز ہے اس سے نورفہم پیدا ہوتا ہے لکھے پڑھے ہونے کی اس میں قید نہیں کہ کرامات الاولیاء ایک کتاب ہے مصر کی چھپی ہوئی اس میں ایک بزرگ شیخ قرشی کی حکایت لکھی ہے کہ وہ بزرگ مجذوم تھے ان کی شادی نہ ہوئی تھی مرید ہی خدمت کیا کرتے تھے سچے مریدوں کو عجیب تعلق ہوتا ہے ایک دن ان بزرگ نے نکاح کی خواہش ظاہر کی ایک مرید فورا اٹھے ان کی لڑکی جوان تھی گھر پہنچے اور جا کر ظاہر کیا کہ ایسی بات ہے حضرت شیخ نے یہ خواہش ظاہر کی ہے لڑکی نے کہا کہ میں موجود ہوں باپ نے کہا کہ وہ مرض جذام میں مبتلا ہیں لڑکی نے کہا کہ کوئی حرج نہیں میں تو خدمت کروں گی مرید نے جا کر قصہ بیان کیا کہ میری لڑکی ہے وہ آپ سے نکاح کرنے پر آمادہ ہے بزرگ نے فرمایا کہ اس سے میری حالت بھی ظاہر کر دی عرض کیا کہ اس نے اسی حالت میں آمادگی کا اظہار کیا ہے فرمایا بہت اچھا غرض نکاح ہو گیا شب کو وہ لڑکی کیا دیکھتی ہے کہ ایک شخص آ رہے ہیں کشیدہ قامت بڑی بڑی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ نہایت تندرست جوان حسین و جمیل اس کے پاس چلے آ رہے ہیں فورا گھونگھٹ کر لیا اور رخ پھیر کر کہا اے شخص تم کون ہو غیر محرم جو اس بیباکی سے میرے پاس چلے آئے انہوں نے کہا کہ میں تیرا خاوند ہوں جس سے نکاح ہوا ہے لڑکی نے کہا کہ وہ تو بیمار اور ضعیف ہیں بزرگ نے فرمایا کہ میں نے تیرے خلوص اور دین و صبر کی وجہ سے اللہ تعالی سے دعا کی تھی کہ اس کی برکت سے حق تعالی نے مجھ کو اس تصرف کی قوت عطا فرما دی میں اب تیرے پاس جب آؤں گا اسی حلیہ سے آؤں گا لڑکی نے کہا کہ میں نے جو آپ کی خدمت قبول کی تھی وہ حظ نفس کے واسطے نہیں کی تھی محض اللہ کے واسطے کی تھی اس صورت میرا حظ نفس شامل ہو جائے گا اگر تم اسی حالت میں آؤ جو تمہاری اصلی حالت ہے تو میں خدمت کے لئے حاضر ہوں اور اگر اس ہیئت سے آپ آئیں تو مجھ کو آزاد فرما دیجئےمیں اپنا اور انتظام کر لوں گی یہ ہے خلوص آج کل بڑے بڑے مقتداؤں میں بھی یہ باتیں نہیں یہ سب تقوی کی برکت ہے ۔
