فرمایا ! کہ لوگ معصیت پر بہت دلیر ہو ہو جاتے ہیں اس کی نحوست سے تمام امراض
روحانی پیدا ہوتے ہیں نورانیت قلب سے جاتی رہتی ہے اور ظلمت بڑھ جاتی ہے تو معاصی میں
بڑی ہی ظلمت اور تاریکی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اور آثار کے اعتبار سے بھی حدیثوں میں
اس کی تائید موجود ہے ـ جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو کوئی گناہ کرتا ہے اس کے قلب پر
ایک سیاہ دھبہ پیدا ہو جاتا ہے اگر بندہ خلوص سے توبہ کر لیتا ہے تو حق تعالی اس دھبہ کو قلب سے
صاف فرما دیتے ہیں ـ اگر توبہ نہیں کرتا اور اس گناہ کو پھر کرتا ہےاور اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ دھبہ
پھیلنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ سارے قلب کو محیط ہو جاتا ہے حق تعالی فرماتے ہیں : کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون ـ ( ہر گز ایسا نہیں بلکہ !
ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے ) ـ
اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎
ہر گنہ زنگے ست بر مرات دل ٭ دل شود زیں زنگ ہا خوار و خجل
چوں زیادت گشت دل را تیرگی ٭ نفس دوں را بیش گرد وخیر گی
( ہر گناہ دل کے آئینہ پر ایک زنگ کا داغ ہے جس کی وجہ سے دل ذلیل و شرمندہ
ہو جاتا ہے اور جب دل کی تاریکی زنگ کی زیادتی کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو کمینے نفس کی حیرانی بڑھ جاتی ہے )
