( ملفوظ 50 ) مدرسہ مقصود نہیں رضائے حق مقصود ہے

ایک صاحب نے مدرسہ دیوبند کے فتنہ حاضرہ کا ذکر کیا اور اپنی رائے کا بھی اظہار کیا کہ اگر ایسا ہو جاوے فتنہ بند ہو جائے ـ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ اگر آپ یہ مشورہ کارکنان مدرسہ کو دیں تو مناسب ہے ـ میرے سنانے سے کیا فائدہ مگر اتنا بتلائے دیتا ہوں کہ یہ مدرسہ دیوبند میں نیا فتنہ نہیں ہے ـ اس سے پیشتر بھی متعدد بار ایسا ہو چکا ہے مگر دفع ہو گیا اور وہ فتنہ اھل قصبہ کی طرف سے تھا ـ اہل قصبہ اپنا ایک ممبر بڑھانا
چاہتے تھے ـ اس پر میں نے حضرت مولانا گنگوہی کو لکھا کہ اگر بڑھ جائے تو ضرر ہی کیا ہے کثرت تو آپ کے خدام ہی کی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مدرسہ کو ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہےـ حضرت نے جواب لکھا کہ مدرسہ مقصود نہیں ـ مقصود رضائے حق ہے اور نااھل ممبر بنانا اور کام سپرد کرنا دین کے خلاف ہے ـ سو اس پر
مواخزہ نہ ہو گا ـ کہ مدرسہ کیوں ٹوٹ گیا ـ اسکے ذمہ دار اہل فتنہ ہوں گے مگر اس پر باز پرس ہوگی کہ نااہل کو کام کیوں سپرد کیا گیا ـ