( ملفوظ 51 )اصول ضوابط سے لوگوں کی گھبراہٹ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اصول اور قواعد سے لوگ گھبراتے ہیں ـ ایک محنتی ولایتی طالب علم مراد آباد سے یہاں پر آئے تھے انہوں نے واپس جا کر یہاں کے ضوابط کے متعلق غیر جوابی خط لکھا کہ قرون اولی میں ایسے قواعد اور ضوابط نہ تھے ـ اس لئے یہ بدعت ہیں ـ اول تو یہ ہی صحیح نہیں کہ قواعد ور ضوبط نہ تھے ـ ضروری قواعد ہمیشہ رہے ہیں ـ دوسرے میں پوچھتا ہون کہ جس مدرسہ میں ان طالب علم صاحب نے کتابیں ختم کی ہیں ـ خود وہاں ایسے قواعد تھے کہ صبح 6 بجے فلاں سبق اور سات بجے فلاں سبق تو انہوں نے خود علم بطریق بدعت حاصل کیا ہے ـ
کیا خرافات اعتراض ہے ـ اسی طرح ایک شخص نے کہا تھا کہ فلاں چیز حضور کے زمانہ میں نہ تھی ـ اس لئے بدعت ہے ـ میں نے کہا کہ اگر یہی مدار ہے بدعت کا تو تم بھی حضور کے سامنے نہ تھے ـ لہزا تم خود بھی بدعت ہو ـ