ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس زمانہ میں ایک دم ایسی کایا پلٹ گئی ہے کہ جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا فلاں مدرسہ کے ارکان اور مجلس شوری سے گفتگو ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ اپنے بزرگوں کے مسلک اور مشرب کی ان کو ہوا تک نہیں لگی ۔ ایک بیہودہ تحریر پر جس سے ایک رکن صاحب نے مجھ کو خطاب کیا تھا یہ سب گڑبڑ ہوئی ۔ آخر تہذیب بھی تو کوئی چیز ہے اس میں تہذیب بھی نہ تھی میں نے سرپرستی سے انکار کر دیا
اور کہہ دیا کہ خط کا معاملہ تو ماضی کا ہے وہ تو مضی ما مضی مگر سرپرستی کا معاملہ مستقبل ہے جس میں مجھ کو ہر طرح کا اختیار ہے منسوخ بھی کر سکتا ہوں باقی بھی رکھ سکتا ہے میرے اختیار سے تو باہر نہیں مگر بقاء اسی وقت ہو سکتا ہے کہ حدود اور اصول شرعیہ سے تجاوز نہ کیا جائے ، کہنے لگے کہ اس تحریر ماضی کے متعلق بھی کچھ تدارک ہونا چاہیے ، میں نے کہا کہ میں کیا تدارک کروں ، کیا میں خود اپنے منہ میاں مٹھو بنوں اور یہ لکھوں کہ میں ویسا نہیں جیسا اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہا کہ مسودہ لکھ دیجئے گا ہم لوگوں کی طرف سے اس کی اشاعت کر دی جائے گی ۔ میں نے کہا کہ مجھ کو ضرورت نہیں آپ خود لکھیں اور اخیر بات یہ ہے کہ ان قصوں کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کسی اور کو سرپرست تجویز کر لیجئے مجھ کو تو ویسے ہی ایسے بکھیڑوں سے وحشت ہوتی ہے جو چیز یکسوئی میں مخل ہو اور غیر ضروری اس سے علیحدہ ہی رہنے کو طبیعت چاہتی ہے کہا کہ سرپرست کے اختیار کیا ہونے چاہئیں ، میں نے کہا کہ جو پہلے سے مدرسہ کے قواعد میں سرپرست کے اختیارات ہیں وہی رکھے جائیں دیکھ لیا جائے کہ کیا اختیارات تھے ، میں نے یہ بھی کہا کہ ہر حال میں یہ ضرور ہے کہ سرپرست ایسے شخص کو بنایا جائے جو اپنے بزرگوں کا نمونہ ہو اس کے خلاف کو میں خیانت سمجھتا ہوں مگر مجھ کو نہ بنائیے اس لیے کہ مجھ کو ایسے معاملات سے مناسبت نہیں اور نہ دلچسپی ۔ اس پر کہا کہ آپ ہی کو منظور کرنا ہو گا ، میں نے کہا کہ سرپرستی کی میری کوئی خواہش نہیں درخواست نہیں اگر آپ کی خواہش ہے تو مجھ کو شرائط کا حق ہے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ سرپرست کو بالکلیہ اختیارات ہوں اس پر ایک شخص بولے کہ تو اس صورت میں اہل شوری نکمے ہوئے ۔ میں نے کہا کہ نہیں اہل شوری کا جو کام یعنی محض مشورہ وہ اس کام کو برابر انجام دیتے رہیں جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ان کے مشوروں سے سرپرست کی رائے اور نظر محیط ہو جائے گی کیونکہ ایک شخص کی رائے اور نظر ہر وقت اور ہر کام میں محیط نہیں ہوتی اس ہی لیے اہل شوری کی ضرورت ہے اور اس سے زائد اہل شوری کا کوئی منصب نہیں ۔ حق تعالی فرماتے ہیں : ” و شاورھم فی الامر فاذا عزمت ”
نہیں فرمایا نہ اذا عزم اکثرکم فرمایا بلکہ فاذا عزمت فرمایا کہ اس سے جہموریت کوئی چیز نہیں رہتی ۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ اگر سرپرست کو بالکلیہ اختیارات دے دئیے جائیں تو اندیشہ ہے کہ صاحب غرض آ کر اس کی رائے کو بدل دیں اور متاثر
کر دیں ، میں نے کہا کہ یہی احتمال شوری میں بھی ہے بلکہ اہل شوری کے متعلق تو ایسے واقعات ہیں جس میں ان کی رائے پر اثر ڈالا گیا اور سرپرست کے تو ایسے واقعات بھی نہیں ۔ غرض اس پر اتفاق رائے ہو گیا کہ مجھ کو سرپرست بنایا جائے ۔ میں نے کہا کہ ایک میری رائے اور ہے وہ یہ کہ عجلت سے کام لینا مناسب نہیں ، مرکز پر جا کر اور اپنے احباب سے مشورہ کر کے اور خود بھی آزادی کے ساتھ فکر اور غور کر کے جو بات قرار پائے مجھ کو لکھ دی جائے اور یہ بھی سن لیجئے کہ مجھ کو اس کا انتظار بھی نہ ہو گا اس لیے کہ مجھ کو اس کا اشتیاق نہیں جن صاحب کے ہاتھ کی وہ بیہودہ تحریر تھی جس سے انہوں نے معافی مانگ لی تھی اس معافی کی اشاعت کے متعلق انہوں نے تو کچھ نہیں کہا مگر ان کی طرف سے ایک صاحب بطور وکیل گفتگو کرنے لگے کہا کہ وہ مضمون معافی کا النور یا الہادی میں شائع کر دیا جائے ، میں نے کہا کہ یہ رسالے تو میری طرف منسوب ہیں ان میں چھاپنا موہم ہو گا ۔ میری استدعا کو مستقل چھاپو ، کہا کہ اخبارات میں مضمون دے دیا جائے ، میں نے کہا کہ یہ بھی مناسب نہیں اس لیے کہ اخبارات نا اہلوں کے ہاتھ میں جاتے ہیں مجھ کو یہ بھی گوارا نہیں کہ ان صاحب کی تحریر کی اہانت نا اہلوں کی نظر میں ہو ، غرض کہ میری طرف منسوب رسالوں میں شائع ہو ، یہ میری وضع کے خلاف ہے اور اخبارات میں شائع ہو وہ آپ کی شان کے خلاف ہے اور جو کچھ مجھ کو شکایت ہوئی محض اس وجہ سے کہ آپ کو محبت کا دعوی ہے معاملہ سے بھی اس کا اظہار کیا جاتا ہے اور زبان سے بھی کہا جاتا ہے انا محب لک ورنہ میں تو اپنے کو اس سے بھی بدتر سجمھتا ہوں جتنا مجھ کو کہا جاتا ہے دیکھئے احمد رضا خان صاحب نے مجھ کو ہمیشہ برا کہا مگر مجھ پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ ایک صاحب بولے کہ جس تحریر پر شکایت ہے ان صاحب تحریر کی عادت ہی ایسی ہے ان کی تحریر کا طرز ہی یہ ہے میں نے کہا کہ آپ کچھ خیال نہ کریں اس جاننے کے ساتھ کہ ان کا یہ طرز ہے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دوسرے کا یہ طرز ہے کہ وہ اس سے دلگیر دل گرفتہ ہوتا ہے ان کا یہ طرز ہمارا یہ طرز پھر ہمارے طرز سے ہم کو کیوں روکا جاتا ہے اس پر خاموش ہو گئے ، کوئی جواب نہ دیا اور صاحب تحریر نے مجھ سے جب معافی مانگی میں نے صاف کہہ دیا کہ معافی تو یہ ہے میں نہ دنیا میں مواخذہ کروں گا نہ آخرت میں لیکن اگر تعلقات بھی ویسے ہی رکھنا چاہتے ہو تو اس کے لیے یہی شرط ہے کہ اپنی غلطی کو چھپوا کر شائع کرو اور میں جو مدرسہ کی وجہ سے مدرسہ والوں کی موافقت کرتا تھا لوگ کہتے تھے کہ مولوی حبیب الرحمن صاحب مرحوم سے متاثر ہے ۔ مولوی مرتضی حسن صاحب نے خوب جواب دیا تھا کہ میاں جو زمانہ تحریکات میں سارے ہندوستان کی مخالفت سے متاثر نہیں ہوا وہ ایک بے چارہ مولوی حبیب الرحمن صاحب سے کیا متاثر ہو گا ۔
