ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مغلوبیت میں اختیار نہیں رہتا اور بعض اوقات شعور رہتا ہے شعور اورچیز ہے اور اختیار اور چیز ہے جیسے آپریشن کے وقت نشتر لگنے پر آہ نکلتی ہے اس وقت اختیار نہیں رہتا مگر شعور ہوتا ہے ۔ یہ حالت بے اختیاری کی اضطرار کہلاتا ہے اس کو غلبہ حال بھی کہتے ہیں اور حال کوئی مقصود چیز نہیں ایک وقتی بات ہے اور مقام مقصود ہے مگر غیر مبصر ان دونوں میں فرق نہیں کر سکتا اس لیے اس کو حق نہیں کہ وہ کسی پر اعتراض کرے اس کو تو اشتباہ کے موقع پر صرف یہ کرنا چاہیے کہ خاموش رہے ہاں مبصر کو حق ہے کہ اپنی بصیرت سے صاحب حال کو یہ بتلائے کہ یہ تیری حالت قابل اطمینان نہیں بلکہ ایک کیفیت کا غلبہ ہے جو چند روزہ ہے اور یہ بتلانا بھی جزئی طور پر ہو کلی تحقیق نہ کرنے لگے اور جب طالب کے سامنے کلی تحقیق مناسب نہیں تو غیر طالب سے تو ایسا خطاب ہر گز نہیں چاہیے اس میں فن کی بے قدری بھی ہے ۔
