ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عجیب حالت ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جو وقعت اور عظمت ان کے قلوب میں پیدا ہوئی ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ تھا یا صحابہ کرام کی کرامت اور یہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم میں لڑائی ہوئی یہ بھی ان کی قوت ایمانیہ کی دلیل تھی یعنی ان کو یہ اطمینان تھا کہ یہ دین حق ہے ایسے اختلافات سے مٹ نہیں سکتا ورنہ اتنی جلدی اختلاف نہ کرتے کیونکہ نئے مشن میں اختلاف کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ اس مشن کو مضرت ہو گی ، نقصان پہنچ جائے گا اس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے جذبات کا پتہ چلتا ہے ، سو لوگوں کے نزدیک تو یہ بات عیب کی ہے اور میرے نزدیک کمال کی ۔
