ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں اول وحی کے بعد دوسری وحی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر مؤخر کر دیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قدر رنج ہوا کہ اشتیاق کی وجہ سے پہاڑی پر چڑھ کر کئی بار جان دینا چاہا جس پر گزرتی ہے وہی خوب جانتا ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
( تیرے پیر میں کانٹا بھی نہیں لگا تو ان حضرات کی حالت کیا جان سکتا ہے جو سر پر تلواریں کھاتے ہیں ۔ 12 )
