( ملفوظ 287 ) فترۃ الوحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں اول وحی کے بعد دوسری وحی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر مؤخر کر دیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قدر رنج ہوا کہ اشتیاق کی وجہ سے پہاڑی پر چڑھ کر کئی بار جان دینا چاہا جس پر گزرتی ہے وہی خوب جانتا ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
( تیرے پیر میں کانٹا بھی نہیں لگا تو ان حضرات کی حالت کیا جان سکتا ہے جو سر پر تلواریں کھاتے ہیں ۔ 12 )