ملفوظ 352: مصائب کے وقت بڑے گناہ کو سوچنا

مصائب کے وقت بڑے گناہ کو سوچنا ایک لطیفہ فرمایا کہ ایک خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ میں بہت سوچتا ہوں کہ ایسا کون سا گناہ مجھ سے ہوا کہ جو اس قدر مصائب میں مبتلا ہوں جواب میں فرمایا کہ جب پریشانی نہ تھی اس وقت نہ سوچا کہ میرا کون سا عمل صالح تھا جس کی وجہ سے خوش عیش بنا رہا ـ اعمال حسنہ کو تو سب کو مقبول ہی سمجھتا رہا اور خوش عیشی میں موثر سمجھتا رہا وہاں نہ سوچا کہ کون سا عمل اس کا سبب ہو گیا تھا اور گناہوں میں امتیاز ڈھونڈتا ہے کہ کون سا گناہ سبب مصائب کا ہوا ـ لوگ گناہ صغیرہ کی تو کوئی اصل ہی نہیں سمجھتے حالانکہ وہ صغیرہ کبیرہ کے مقابلے میں صغیرہ ہے اپنی ذات میں تو صغیرہ نہیں مثال سے سمجھ لیجئے جیسے چنگاری اس میں کیا چھوٹی کیا بڑی چھپر پھونک دینے کے لیے تو چھوٹی بھی بہت ہے ـ (لطیفہ) فرمایا کہ ایک مولوی صاحب کا خط آیا ہے عجیب نام ہے قیاس گل ـ پھر فرمایا کہ گل بھی دو ہیں ایک پھول اور ایک حقہ کا گل ـ ایک مولوی حاحب نے عرض کیا کہ حضرت ! ایک چراغ گل بھی تو ہے فرمایا ہاں صحیح ہے پھر اسی پر مبنی کر کے فرمایا کہ ان مولوی صاحب نے جو عرف کے اتباع میں مجھ سے باتیں پوچھی ہیں ان میں مجھ کو دوسروں پر قیاس کر کے قیاس کو گل کیا ہے ـ