ملفوظ 351: اصلاح طالب سے چشم پوشی خیانت ہے

اصلاح طالب سے چشم پوشی خیانت ہے ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت اگر میں طالبین کی غلطیوں کی تاویلیں کر لیا کروں تو اصلاح اور تربیت ہی نہیں ہو سکتی ـ ان کے امراض سے اگر چشم پوشی کی جائے تو اعلی درجہ کی خیانت ہے برا ماننے والوں میں حس نہیں ـ رہا چشم پوشی کی فرمائش کرنے والے مجھ پر ایک قسم کا دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں مگر مجھ کو دبنے کی کیا ضرورت ہے کیا کوئی میرا کام ہے یا کوئی میری غرض ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایسا تو کوئی نہیں سمجھتا فرمایا کہ یہ تو میں بھی جانتا ہوں ـ کہ اس کا قصد تو نہیں ہوتا ـ مگر آخر عنوان بھی ایسا کیوں اختیار کیا جائے ـ جس سے اس قسم کا شبہ پیدا ہو سکتا ہے ـ اصل میں ان باتوں کا تعلق فہم سے ہے فہم بڑی دولت ہے اللہ تعالی کی جس کو عطا فرما دیں ـ میں مشقت سے نہیں گھبراتا جس قدر چاہے خدمت لی جائے ہاں بد سلیقگی اور بے اصولی سے گھبراتا ہوں کہ میں تو اس کی اصلاح کرنا چاہوں اور اس سے لوگ گھبرائیں پھر یہ کہ میں دوسرے کو بدوں اس کی طلب کے کبھی کوئی تعلیم نہیں کرتا ـ تو تعلیم کی درخواست کے بعد اس سے گھبرانا کیا ـ معنی حاصل یہ کہ میں تعلیم کے متعلق کسی کو خطاب خاص نہیں کرتا البتہ طلب پر خطاب خطاب خاص کرتا ہوں اور یوں تو بحمداللہ ہر وقت ہی عام اصلاحی تعلیم میرے یہاں ہوتی رہتی ہے جس پر بھی لوگوں سے لڑائی ہو جاتی ہے میں تو چاہتا ہوں کہ بندوں کا تعلق اللہ تعالی سے صحیح رہے اور لوگ اس کا احساس نہیں کرتے