ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب نہایت ہی لطیف المزاج اور بہت ہی نازک طبع تھے ۔ آپ کے ایک مرید تھے جو سال بھر میں دو مرتبہ آتے تھے ، دو چار روز رہ کر چلے جاتے تھے ۔ ایک روز ان مرید صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اتنے دنوں سے آتا ہوں اس تمنا میں کہ حضرت کوئی فرمائش کریں ، میرا جی چاہتا ہے فرمایا کہ بھائی محبت سے آتے ہو جی خوش ہو جاتا ہے ۔ یہ فرمائش سے بڑھ کر ہے ۔ عرض کیا کہ حضرت میری خوشی یہی ہے ، فرمایا کہ فرمائش کروں ، عرض کیا کہ ضرور ، فرمایا کہ تم سال بھر میں دو مرتبہ آتے ہو ایک مرتبہ آیا کرو تو بہتر ہے کیونکہ تم کھاتے بہت ہو اس کے تصور سے میرے معدہ میں ثقل ہو جاتا ہے اور مسہل لینا پڑتا ہے ، سال بھر میں دو مسہل مشکل ہیں اگر ایک مرتبہ آؤ گے تو ایک ہی مسہل لینا پڑے گا ۔
