( ملفوظ 284 ) آج کل کا رسمی ادب اور رسمی تعظیم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس کا تو اکثر لوگوں کو خیال ہی نہیں کہ ہماری وجہ سے دوسرے کو اذیت نہ ہو ، تکلیف نہ پہنچے ، البتہ رسمی ادب رسمی تعظیم یہ سب کچھ ہے بعض لوگ ادب کی وجہ سے پشت کی جانب آ کر بیٹھ جاتے ہیں جس سے سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ قلب پر ایک بار ہوتا ہے ۔ ایک صاحب آئے اور میری پشت کی جانب بیٹھ گئے ، میں اس وقت کچھ پڑھا رہا تھا اس قدر قلب پر گرانی ہوئی کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا ۔ آخر میں نے یہ کیا میں اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کی پشت کی طرف جا بیٹھا ، اب وہ کمسائے اور اٹھنا چاہا ، میں نے ڈانٹ کر کہا کہ خبردار جو یہاں سے جنبش کی ، بیچارہ بیٹھا رہا ، میں نے کہا پتہ چلا کہ پشت پر بیٹھنے سے کیسی تکلیف ہوتی ہے ، کہا ہاں میں تو آپ کو بزرگ سمجھ کر ادب کی وجہ سے پیچھے بیٹھ گیا تھا ، میں نے کہا کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں آپ کو عاصی گنہگار ، فاسق فاجر سمجھتا ہوں ، توبہ کی کہ اب کبھی پشت کی جانب نہ بیٹھوں گا ، ان بد تمیزوں کے دماغ اسی طرح سیدھے ہوتے ہیں ۔
ڈھاکہ بلکہ کل بنگال میں ملاقات کے وقت پیر پکڑنے کی رسم ہے ۔ جب میں ڈھاکہ گیا یہ ہی برتاؤ میرے ساتھ کیا ، میں نے منع کیا مگر مانا نہیں ، پھر میں نے اس کا یہ علاج کیا کہ جو میرے پیر پکڑتا میں اس کے پیر پکڑ لیتا ۔ حیدر آباد دکن میں بھی ایسی رسمی تہذیب بہت زیادہ ہے جب وہاں گیا ، خیال ہوا کہ جب میں ایسے تصنعات نہ برتوں گا تو بد تہذیب سمجھا جاؤں گا ، اس لیے میں نے اعلان کر دیا کہ ہر جگہ کی تہذیب جدا ہے ، میں یہاں کی تہذیب پر عمل نہ کروں گا بلکہ تھانہ بھون کی تہذیب پر عمل کروں گا ، تو میں نے سادگی کو تہذیب کی فرد بنا دی ۔ حیدر آباد ہی کا واقعہ ہے ایک جج آئے میرے قدم چومنا چاہتے تھے ، صورت یہ تھی کہ میں چلنے کی تیاری کر رہا تھا اور ایک چارپائی پر پیر لٹکائے ہوئے اسباب بندھوا رہا تھا وہ پیروں کی طرف بڑھے ، میں نے کہا کہ ذرا ٹھرئیے میں آرام سے بیٹھ جاؤں ، وہ رک گئے ، میں نے پیر سمیٹ کر پلنگ پر رکھ لیے اور قدموں کو ران کے نیچے چھپا لیے اور کہا کہ اب اجازت ہے آپ جو چاہیں کریں رہ گئے ، اپنا سا منہ لے کر وہاں پر تو پیر اچھی خاصی پرستش کراتے ہیں حقائق تو ان جاہل پیروں کی وجہ سے بالکل ہی مستور ہو گئے ، بس رسوم رسوم رہ گئے ہیں انہیں رسوم کو مٹانا چاہتا ہوں ، اسی پر لوگوں سے آئے دن لڑائی رہتی ہے ۔