ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں میں نئے نئے لقب کہاں سے گھس آئے ، ہمارے اکابر اتنے اتنے بڑے گزرے ہیں کسی کا کوئی لقب نہ تھا نہ امام الہند نہ شیخ الہند نہ شیخ الحدیث نہ شیخ التفسیر نہ ابوالکلام نہ امیر الکلام محض سادگی تھی ۔ ہم کو تو وہی طرز پسند ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ دیوبند میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جو کتبہ ہے اس پر حضرت کے نام کے ساتھ شیخ الاسلام لکھا ہے ، فرمایا کہ یہ آج ہی آپ کی زبانی سنا ہے مگر خیر یہ لقب پھر پرانا ہے نئے القاب کی سی اس میں ظلمت نہیں ، ہمارے بزرگوں کی سادگی کی تو یہ حالت تھی ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پاؤں دبوا رہے تھے ایک گنوار آیا اس نے نہایت بے باکی سے کہا کہ مولوی صاحب بڑا جی خوش ہو رہا ہو گا کہ ہم ایسے ہیں کہ لوگ ہمارے پاؤں دبا رہے ہیں ، حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھائی راحت سے تو جی خوش ہوتا ہی ہے اس نے کہا کیا یہ جی میں نہیں آتا کہ میں بڑا ہوں ، فرمایا الحمد للہ بڑے ہونے کا تو قلب میں وسوسہ تک بھی نہیں آتا اس نے کہا کہ مولوی جی تو پھر تم کو پاؤں دبوانا جائز ہے ۔ اس واقعہ سے حضرت کی بے نفسی اور سادگی اور اس شخص کی بھی بے تکلفی اور سادگی کا پتہ چلتا ہے ۔ آج کل کے مدعیان تہذیب اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اگر یہ نہیں تو میں تو آج کل کی تہذیب کو تعذیب کہا کرتا ہوں ۔
23 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
