( ملفوظ 532)موت کا مراقبہ بقدر بضرورت ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کبھی کبھی موت کا مراقبہ کیا جائے تو کیسا ہے فرمایا کہ ضرورت کے وقت ورنہ اصل چیز تو اللہ ہی کی یاد ہے اس ہی کے لئے موت کا مراقبہ بھی تجویز کیا جاتا ہے حاصل یہ ہے کہ موانع ذکر مرتفع کرنے کے واسطے موت کا مراقبہ کرایا جاتا ہے اگر وہ موانع ہوں تو اب ضرورت ہے کہ موت کا مراقبہ کرے اور اگر موانع نہیں تو اللہ کی یاد میں مشغول رہے اور موت کا مراقبہ بھی غلو کے ساتھ نہیں بقدر ضرورت کافی ہے جیسے طاعون کے زمانہ میں سب کام کرتے ہیں مگر دل دنیا سے اکھڑ جاتا ہے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں بس اتنا استحضار کافی ہے ۔