ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ موت کے وقت تو بہت سے خطرات قلب میں آ سکتے ہیں مگر مضر صرف وہی خطرات ہیں کہ جو اپنے قصد سے اختیار کرتے ہو اور جو بلا قصد اور بلا اختیار ہوں وہ مضر نہیں یہ خطرات میں تفصیل ہے باقی سب سے زیادہ سخت جو چیز اس وقت خطرناک ہے دنیا ہے ــ اور وہ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا میں جب انہماک ہوتا ہے اور اس کی محبت ہوتی ہے تو اس کے چوٹنے کے وقت جو کہ موت کا وقت ہوتا ہے زیادہ اندیشہ ہے کہ چھڑانے والے سے عداوت نہ پیدا ہو جائے جو کفر ہے اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ اس کو مغلوب کرتا رہے اس کے خلاف کا استحضار کرتا رہے پھر انشاءاللہ تعالی کوئی مضرت یا اندیشہ نہ ہوگا ـ اجی مسلمان اعتقادا تو دنیا کو برا سمجھتا ہی ہے مگر اس اعتقاد کو استحضار کے درجہ تک پہنچا دینا چاہئے اور یہ بہت کم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ایمان سلب ہوتا ہو جن کے سلب ہوتا ہے وہ پہلے ہی سے ہو چکتا ہے اس وقت ظہور ہو جاتا ہے ہر مسلمان کو اس وقت کی فکر ہونا چاہئے بالخصوص اپنے قلب کو محبت دنیا سے بالکل خالی رکھنا چاہئے ـ یکم رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ
