ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مرید کا شیخ کے ساتھ طریق میں مزاحمت کرنا ایسا ہے جیسے بیٹا باپ کے ساتھ مزاحمت کرے اور شاگرد استاد کے ساتھ مزاحمت کرے اور کوئی نوکر اپنے آقا یا افسر کے ساتھ مزاحمت کرے ، چاہے مرید کی کوئی خاص رائے مفید ہی ہو مگر آئندہ کے لیے دروازہ کھلتا ہے اور اس کی عادت پڑتی ہے اس لیے شیخ اس کو مٹا دیتا ہے ۔ اب یہ چیزیں مدون تھوڑا ہی ہیں یہ اجتہادی اور ظنی باتیں ہیں
اہل فن سمجھ سکتے ہیں ۔ غیر اہل فن کے بس کا کام نہیں جیسے طبیب حاذق سمجھتا ہے امراض کو اور غیر حاذق تو گڑبڑ ہی کرے گا سمجھے گا خاک بھی نہیں ۔
