فرمایا ایک روز ڈاک میں خطوط زائد آئے تو ایک صاحب کہنے لگے کہ آج تو خط بہت ہیں ، میں نے کہا کہ جب تک ضابطے یاد ہیں کیا فکر ہے بالکل ایسا ہی قصہ ہے کہ ایک مکان میں ایک سخی رہتا تھا سائلوں کو بہت دیتا تھا ، اتفاق سے سخی نے اس مکان کو چھوڑ دیا اور ایک بخیل صاحب آ کر رہے ، عادت کے موافق سائلوں کا ہجوم رہتا تھا مگر یہ سب کو اللہ کریم کر کے رخصت کر دیتا ، عرب میں دستور ہے کہ جہاں سائل سے اللہ کریم کہا سائل فورا واپس ہو جاتا ہے ۔ ایک روز بخیل بہت پریشان ہو کر گھر میں گیا اس کی لڑکی نے پریشانی کا سبب دریافت کیا اس نے کہا یہاں کثرت سے سائل آتے ہیں ، لڑکی نے کہا جب تک اللہ کریم یاد ہے اس وقت تک کیا پریشانی
تو ایسے ہی جب تک ضابطے یاد ہیں کیا فکر جیسا چاہا جواب لکھ دیا ، مثلا یہ ہی لکھ دیا کہ یہ مضمون غیر ضروری ہے تو جب تک مثلا یہ یاد ہے کیا فکر ۔
