ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب سکول کے مدرس یہاں آئے اور کہنے لگے کہ تقدیر کے مسئلہ پر مجھ کو کچھ شکوک ہیں ، میں نے کہا کہ اس کے سمجھنے کے لیے تبحر علمی کی ضرورت ہے ، کہنے لگے کہ آپ تقریر کر دیں میں سمجھوں یا نہیں شاید سمجھ ہی لوں ، میں نے کہا کہ میرا مفت کا دماغ نہیں ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ آپ کسی درسیات پڑھے ہوئے طالب علم کو بلا لائیے وہ مجھ سے پوچھے میں اس کے سامنے تقریر کروں گا ، اس سے آپ کو دو باتوں کا اندازہ ہو جائے گا ۔ ایک تو یہ کہ ملانوں کے پاس جواب ہے ۔ دوسرا یہ کہ آپ سمجھ نہیں سکتے اور ایسی حالت میں طبیعت پھر تقریر کرتے ہوئے الجھتی ہے تقریر کا جوش مخاطب کے جذب پر موقوف ہے جیسے ماں کے دودھ میں جوش ہوتا ہے بچے کی طلب پر ایک اور کام کی بات عرض کرتا ہوں وہ یہ کہ طبیب کے مطب میں دو قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں ایک مریض اور ایک شاگرد اگر شاگرد کہے کہ اس نسخہ میں گل بنفشہ کیوں لکھا ہے اس کے سامنے طبیب تقریر کرے گا ، سمجھائے گا اس لیے کہ وہ فن کو حاصل کر رہا ہے اس لیے اس کا حق ہے سوال کا اور اگر مریض یہی بات پوچھئے ، کان پکڑ کر نکال دیا جائے گا اس لیے کہ اس کو حق نہیں ، سوال کرنے کا اس کا مطلب صرف معالجہ ہے نہ کہ فن اور معالجہ اس تحقیق پر موقوف نہیں ۔ اسی طرح بے علم کو چاہیے کہ وہ حکم معلوم کرے اس کی علت دریافت کرنا ضروری کیا جائز بھی نہیں ۔ ہاں طالب علم علت مسئلہ کی اگر سمجھنا چاہے گا تو اس کے سامنے تقریر کی جائے گی وہ بھی خاص قیود سے نہ کہ ہر حالت میں چنانچہ بعض طالب علم مجھ سے پوچھتے ہیں کہ فلاں مسئلہ کی تحقیق کیا ہے میں لکھ دیتا ہوں کہ استاد سے پوچھو وہ لکھتے ہیں ، پوچھا تھا تسلی نہیں ہوئی ، میں لکھتا ہوں کہ ان کی تقریر لکھو اور جو تم اس سے سمجھے ہو وہ لکھو پھر اس میں جو شبہ ہو وہ لکھو اگر وہ تقریر اس شبہ کے رفع کے لیے کافی نہ ہو گی پھر میں تقریر کا ذمہ دار ہوں ، انشاء اللہ بتاؤں گا میں اس قدر سستا نہیں ہوں کہ مجھ کو ہر وقت مشغلہ بنا لیا جائے ۔
