ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک غیر مقلد کا خط آیا تھا ، لکھا تھا کہ مجھ کو بیعت کر لو اور کچھ ذکر و شغل کی تعلیم کر دو ، میں نے محض فہم کا اندازہ کرنے کیلئے لکھا کہ تم آئمہ کی تو تقلید نہیں کرتے مگر یہ بتلاؤ کہ اس میں میری بھی تقلید کرو گے یا نہیں ؟ لکھا کہ بہت سوچا کوئی جواب بھی سمجھ میں نہ آیا ۔ اشکال یہ ہوا کہ اگر تقلید نہ کرتے تو بدون اتباع کے اصلاح کیسے ہو گی اور اگر کرتے ہیں تو غیر مقلدی کے خلاف ہے ، میں نے کہا کہ بندہ خدا مجھ ہی سے جواب پوچھ لیتا ، میں ہی جواب سکھلا کر اپنے کو لاجواب کر لیتا ، وہ جواب یہ ہے کہ تقلید کی شق اختیار کرتے اب اس پر آئمہ کی تقلید نہ کرنے کا اشکال پڑتا اس کا جواب یہ لکھتے کہ آئمہ کی تقلید تو احکام میں کرائی جاتی ہے اور تمہاری تقلید احکام میں نہیں ہو گی بلکہ تدابیر اصلاح میں تقلید کروں گا ۔ اکثر غیر مقلیدین کے اس قسم کے خطوط آتے ہیں میں اول ان سے یہی سوال کرتا ہوں کہ تقلید کو کیسا سمجھتے ہو بعض لکھتے ہیں کہ ہم جائز سمجھتے ہیں واجب نہیں ، ایسوں کو بیعت کر لیتا ہوں اور بعض لکھتے ہیں کہ ہم حرام اور شرک سمجھتے ہیں میں ایسوں کو لکھ دیتا ہوں کہ اتباع کا تعلق کرنا ایسے شخص سے کب جائز ہے جو حرام اور شرک میں مبتلا ہو ۔
