ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غریب انسان کا اختیار ہی کیا ہے وہ اپنے کو کسی طرف لگائے رکھے یہ سب فضل پر موقوف ہے مگر ہاں طلب شرط ہے یہ اپنا کام کرے آگے ان کا کام ہے کہ وہ اس کو قبول فرما لیں ورنہ اس بے چارے کی حقیقت ہے کیا اسی لئے کبھی ناز نہ کرنا چاہیے ۔
کہ میں یہ کہہ رہا ہوں بلکہ فضل اور رحمت پر نظر رکھنا چاہیے کہ انہوں نے توفیق عطا فرما دی اور اپنے کام میں لگا لیا بس اسی میں اس کی خیر ہے اور یہ بندہ بندہ ہے ورنہ گندہ ہے کہ اعمال کے صدور کو اپنا کمال سمجھے اس ہی لئے کامل کی صحبت کی ضرورت ہے تا کہ وہ رہبری کر کے اس نازک راہ سے گزار دے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دلائل صحیحہ سے تو مطلق اختیار ثابت ہے مگر وقوع کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ اختیار مستقل نہیں ہے ۔
