ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل لوگ علل اور حکم کے بہت پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یہ نہایت خطرناک چیز ہے مثلا کہتے ہیں کہ جماعت کی نماز سے مقصود باہمی اتحاد ہے سو اگر کسی اور ذریعہ سے یہ مقصود حاصل ہو جائے تو لوگ نماز ہی کو خیر باد کہہ دے گے کیونکہ جو مقصود تھا نماز کا وہ تو حاصل ہو گیا پھر نماز کی کیا ضرورت رہی دین کو لوگوں نے کھیل بنا رکھا ہے جو جی میں آتا ہے ہانک دیتے ہیں اس کے انجام پر نظر نہیں کرتے یہ آجکل کے عقلاء ہیں ۔
