ملفوظ 363: علماء کو عوام کا تابع نہیں بننا چاہئیے

علماء کو عوام کا تابع نہیں بننا چاہئیے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء کو عوام اور جہلاء کا تابع بن کر نہیں رہنا چاہیے اس سے دین کی عظمت و احترام ان لوگوں کے قلوب سے نکل جانے کا اندیشہ ہے آج جو عوام کی ہمت اور جرات بڑھ گئی کہ وہ اہل علم کو حقیر سمجھتے ہیں اس کا سبب یہ اہل علم ہی ہوئے ہیں مجھے جو عوام کی حرکت یا ان کے کسی فعل پر اس قدر جلد تغیر ہو جاتا ہے اس کا سبب زیادہ تر وہ فعل نہیں ہوتا ـ بلکہ اس کا منشا اس کا سبب ہوتا ہے یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اہل دنیا جو مال کی وجہ سے بڑے ہیں یا حکام جو جاہ کی وجہ سے بڑے ہیں یہ عوام ان کے ساتھ یہ بے فکری کا برتاؤ کیوں نہیں کرتے جو اہل علم سے کرتے ہیں ان کے سامنے جا کر کیوں بھیگی بلی بن جاتے ہیں ـ
یہ سب علماء کے ڈھیلے پن کی بدولت ہے ـ میں کہا کرتا ہوں کہ نہ تو ڈھیلے بنو اور نہ ڈھیلے ( کلوخ ) ہو جس سے دوسرے کے چوٹ لگے توسط کے درجہ میں رہو نہ تو اس قدر کڑوے بنو کہ کوئی تھوک دے اور نہ اس قدر میٹھے کہ دوسرا نگل ہی جائے آجکل تو یہاں تک نوبت آ گئی ہے کہ بعض علماء مسائل کے جواب میں عوام کے مذاق کی رعایت کرنے لگے مجھ کو تو اس طرز پر بے حد افسوس ہے یہ اہل علم کی شان کے بالکل خلاف ہے ـ مسائل کے جواب کے وقت اہل علم کی یہ شان ہونی چاہئیے جیسے حاکم کے اجلاس پر ہونے کے وقت شان ہوتی ہے ـ فرمایا کہ اس پر یاد آیا کہ کانپور میں ایک کوتوال صاحب نے ایک معمولی مولوی صاحب سے جو ان کے بچوں کی تعلیم پر ان کے ملازم تھے سوال کیا کہ نبی میں اور ساحر میں فرق کیسے معلوم ہو ـ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ آپ کوتوال ہیں جس وقت کسی معاملہ کی تحقیق کے لیے اپنے علاقہ میں جاتے ہیں تو ان لوگوں کے اطمینان کا کیا ذریعہ ہے کہ آپ کوتوال ہیں ممکن ہے بھروپیہ یا ڈاکو ہو اور اس وردی میں چلا آیا ہو ـ اب کوتوال صاحب چپ ہیں کچھ نہیں بولتے ـ وااقعی ان متکبروں کا دماغ اسی طرح سیدھا کرنا چاہئیے ـ ایسے جاہلوں کے سامنے دب کر جواب دینا مفید نہیں ہو سکتا ـ یہ مولوی صاحب تھے بڑے جری نہ کسی انگریز سے ڈرے نہ ہندوستانی سے ـ ایک مرتبہ یہی حضرت ایک انگریز لفٹنٹ گورنر کے پاس پہنچے اور جا کر کہا کہ کیا کچھ تمہاری حکومت میں علماء کا حق نہیں رہا کیا یہ تمہاری رعایا نہیں اس نے جواب میں کہا کہ ضرور ہے فرمایئے کہ آپ چاہتے کیا ہیں کہ روزگار چاہیئے اس انگریز نے جواب دیا کہ روزگا بہت ! مگر آپ کے علم کی شان کے خلاف ہے اس کے لیے تو یہی زیبا ہے کہ آپ کسی مسجد میں بیٹھ کر درس و تدریس کا کام کریں جس سے خدا کے دین کی خدمت ہو اور خدا تمہاری ضروریات کا کفیل ہو گا انہوں نے جواب میں کہا کہ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں ـ آپ نے مجھ کو نیک مشورہ دیا اور اس انگریز نے خدمت گار کو اشارہ کیا کہ وہ فورا ایک کشتی میں پچاس لاکھ روپیہ رکھ کر لایا اس انگریز نے خود اپنے ہاتھ میں کشتی لے کر ان کے سامنے پیش کئے کہ یہ آپ کی نذر ہے انہوں نے کہا کہ میں آپ کی نصیحت پر یہیں سے عمل شروع کرتا ہوں ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ کے لیتے اس نے یہ بھی تو کہا تھا کہ خدا کفیل ہوگا تو یہ خدا ہی نے تو پیش کرائے تھے اور مسجد ہی کے بیٹھنے کی نیت کا ثمرہ تھا ـ ایک بزرگ خلوت نشین تھے لفٹنٹ گورنر ملاقات کو گئے جا کر سلام کیا جب رخصت ہونے لگے عرض کیا کہ حضور کی زندگی کا کیا ذریعہ ہے بزرگ نے فرمایا کہ کل جواب دونگا ـ اگلے روز لفٹنٹ گورنر پھر بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک ہزار روپیہ کی تھیلی ہمراہ لے گئے اور پیش کی اور عرض کیا کہ حضور آج جا رہا ہوں اور کل کے جواب کا انتظار ہے بزرگ نے فرمایا یہ کل کا جواب ہے تم میرے مرید نہیں حتی کہ مسلمان بھی نہیں میرا تم سے تعلق کیا پھر کیوں دیتے ہو حق تعالی اسی طرح عطا فرماتے ہیں گزر ہوتی ہے تو جس طرح ان بزرگ نے خدا کا عطیہ سمجھ کر لے لیا تھا ـ اسی طرح مولوی صاحب کو بھی خدا کی عطا سمجھ کر لے لینا تھا ـ