ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ لوگ کبائر میں مبتلا ہیں گناہوں کو اختیار کرتے ہیں ان کو
خوف اورخشیت کا استحضار نہیں بڑی ہی خطرناک بات ہے ـ بعض اکابر کا قول ہے کہ قیامت میں
ہر عمل کی ہیئت مشاہد ہوگی مثلا کسی شخص نے کسی اجنبیہ عورت سے زنا کیا تھا ـ ویسے ہی زنا کرتا ہوا
قیامت میں نظر آئے گا اعمال سے ایک خاص ہیئت پیدا ہو جاتی ہے کبھی کبھی دنیا میں بعض اہل اللہ
اور خاصان حق پر وہ ہیئت منکشف ہو جاتی ہے ـ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص
حاضر ہوا آپ نے اس شخص کو سنا نے کیلئے فرمایا کہ بعض لوگ ہماری مجلس میں آتے ہیں اور ان کی
آنکھوں سے زنا ٹپکتا ہے ـ
حضرت غوث اعظم ؒ کے ہم عصر ایک بزرگ ہیں حضرت سیدنا احمد کبیر رفاعی یہ بہت بڑے اولیاء کبار میں سے ہیں مگر حضرت غوث اعظم ؒ کے پاس ایک شخص مرید ہونے آیا فرمایا کہ بھائی تیری پیشانی سے شقاوت نمایاں ہے تجھ کو کیا مرید کروں وہ بےچارہ مایوس
ہو کر لوٹ گیا ـ حضرت کا صورت دیکھ کر فرما دینا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت پر ہیئت اعمال منکشف ہوئی ہو گی یہ شخص حضرت سید احمد کبیر رفاعی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو ، صورت دیکھ کر فرمایا کہ آؤ بھائی میں خود بھی ایسا ہی ہوں ان کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر دونوں ہیئتیں منکشف ہوئیں شقاوت کی بھی اور اس سے آگے سعادت کی بھی ـ حضرت سید احمد کبیر رفاعی ؒ نے اس شخص کی تسلی و تشفی کی اور طریق میں داخل کر لیا چند روز میں اس شخص کو حضرت غوث اعظم ؒ
خدمت میں حاضر ہونے کی ہدایت فرمائی ـ یہ شخص حضرت غوث اعظم ؒ کی خدمت
میں حاضر ہوا دیکھ کر فرمایا کہ آؤ بھائی ! میرے بھائی احمد کبیر کو اللہ نے ایسا تصرف دیا ہے ـ اس ہیئت کے منکشف ہونے پر ایک اور حکایت یاد آئی ـ ایک بزرگ ایک بستی پر سے گزرے اس بستی میں بھی
ایک بزرگ تھے ـ ان مقامی بزرگ نے ملاقات کا عزم کیا اور ان کے پیچھے دوڑے ملاقات تو نہ ہو سکی ، مگر یہ معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ان بزرگ نے نماز پڑھی ہے ان بزرگ کو خیال ہوا کہ لاؤ نماز کی
جگہ ہی کو دیکھیں دیکھا تو سجدہ میں ہاتھ کانوں سے پیچھے ہٹے ہوئے نظر آئے ـ
فرمایا کہ اس شخص کی نماز کی ہیئت خلاف سنت ہے یہ شخص بزرگ نہیں ہو سکتا ـ
یہاں جیسے بصر سے ہیئت عمل کی نظر آ گئی ـ اسی طرح کبھی بصیرت سے نظر آ جاتی ہے ـ
اسی سلسلہ میں ایک حکایت غالبا حضرت مولانا دیوبندی ؒ سے سنی ہوئی
فرمائی کہ ایک بزرگ کو معلوم ہوا کہ فلاں بزرگ اس بستی میں آئے ہیں انہیوں نے ارادہ کیا کہ آنے والے بزرگ سے ملاقات کروں وارد ہوا کہ مت ملو ـ ان بزرگ نے خیال کیا کہ نہ ملنے کی کوئی وجہ نہیں ـ یہ حدیث النفس ہے ملنا چاہئے اللہ کے بندہ ہیں مقبول ہیں ان کی زیارت باعث
سعادت ہے ـ غرضیکہ وارد کی مخالفت کی اور ملنے کا پھر ارادہ کیا وارد میں پھر منع کیا گیا انہوں نے
پھر ارادہ ملاقات کا کیا اور بالاآخر ملاقات کیلئے چل دیئے چلتے میں ٹھوکر لگی گرے
چلنے سے معذور
ہو گئے ـ بعد میں وجہ معلوم ہوئی کہ وارد میں جو منع کیا گیا تھا ـ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ بد عتی بزرگ تھے جن سے ملنے کو منع کیا گیا تھا اس پر فرمایا کہ واردات کی مخالفت معصیت تو نہیں مگر دنیاوی ضرر ضرور ہو جاتا ہے ـ اور یہ ضرر اضطرارا تو نہیں مگر اختیارا کبھی مفضی ہو جاتا ہے ـ ضرر دینی کی طرف اور وہ ضرر دینی اس طرح پر ہوتا ہے کہ کسی معصیت کا وسوسہ ہوا اور اس سے بچنے کیلئے کہ ہمت
سے اس کی مقاومت ہو سکتی تھی مگر طبعا کسل ہو گیا اور اس سے غباوت ہو گئی اس لئے اعمال میں کمی ہو گئی ـ اب اس میں دو ہی صورتیں ہیں کہ پھر وہ عمل اگر واجت تھا تو خسران ہوا اور اگر واجب نہ
تھا تو حرمان ہوا ہے ـ بڑا نازک راستہ بڑے ہی سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے ـ
