ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت تھانہ بھون تہہ خانہ ہے ـ دریافت فرمایا
کیا مطل ہے میں سمجھا نہیں ـ عرض کیا کہ آجکل دنیا میں جو مختلف چیزیں چل رہی ہیں اور آگ
لگ رہی ہے ( مراد تحریکات ہیں ) یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ کہیں بھی کچھ نہیں دریافت فرمایا اتنا
اور فرما دیجئے کہ اس سے مراد آپ کی قصبہ تھانہ بھون ہے یا خانقاہ ! عرض کیا یہ احاطہ خانقاہ مراد
ہے فرمایا کہ جی ہاں ! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ سب اپنے بزرگوں کی جوتیوں کا طفیل ہے ایک کونہ
دبائے بیٹھے ہیں میں تو یہ شعر پڑھا کرتا ہوں ؎
ہیچ کنجے بے دو وبے دام نیست ٭ جز بخلوت گاہ حق آ رام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بے درندوں اور ( مختلف قسم کے ) جالوں کے نہیں ہے ـ بجز خلوت گاہ حق کے کہیں راحت نہیں )
مگر اس پر بھی عنایت فرماؤں کی عنایات ہوتی رہتی ہیں
