ملفوظ 36: امور تکوینیہ اور مجذوب

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سنا ہے کہ یہ امور تکوینیہ مجذوبین کے متلعق
ہوتے ہیں بدوں عقل کے وہ کام کیسے کرتے ہوں گے فرمایا ان کے متعلق ہونا صحیح ہے اور گو ان
میں عقل نہیں ہوتی لیکن جو کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے اس میں عقل کی ضرورت نہیں اس لئے اس
کو بخوبی انجام دیتے ہیں کیونکہ انجام دینا عقل پر موقوف نہیں بلکہ سلامت حواس بھی کافی ہے جیسے
بچہ کہ اس کو عقل تو ہوتی نہیں مگر حواس ہوتے ہیں ـ بھوک پیاس میں کھانے پینے کو مانگتا ہے خوشی کی
بات سے خوش ہوتا ہے رنج کی بات سے اگر ڈرایا جائےیا ہنسایا جائے ڈرتا ہے ہنستا ہے ان
چیزوں میں عقل کی ضرورت نہیں یہ فطری چیزیں ہیں ـ
خلاصہ یہ ہے کہ عقل اور چیز ہے اور حواس اور چیز ـ پس ان مجذوبین کی حالت مشابہ
بچوں کے ہے یہی وجہ ہے کہ سالکین مراتب میں مجذوبین سے افضل ہیں اور بعض اوقات سلامت
حواس بھی شرط نہیں ہوتی ـ
29 : شعبان المعظم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ