ملفوظ 35: خیرالقرون کا سواد اعظم مراد ہے

فرمایا کہ آجکل جمہوریت کو شخصیت پر ترجیح دی جا رہی ہے اور کہتے ہیں کہ جس طرف
کثرت ہو وہ سواد اعظم ہے اسی زمانہ میں میرے ایک دوست نے اس کے متلعق عجیب و لطیف
بات بیان کی تھی اکہ اگر سواد اعظم کے معنی یہ بھی مان لیے جائیں کہ جس طرف زیادہ ہوں تو ہر زمانہ
کا سواد اعظم مراد نہیں بلکہ خیرالقرون کا زمانہ مراد ہے جو غلبہ خیر کا وقت تھا ان لوگوں میں سے جس طرف مجمع کثیر ہو وہ مراد ہے نہ کہ ثم یفشوا لکذب ( پھر جھوٹ پھیل جائے گا ) کا زمانہ کہ یہ
جملہ ہی بتا رہا ہے کہ بعد خیرالقرون کے کثرت شر میں ہو گی ـ مجھے تو یہ بات بہت ہی پسند آئی واقعی
کام کی بات ہے اگر یہ اشکال ہو کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے بعض مسائل میں سواد اعظم کا اختلاف خیرالقرون میں کیا ہے ـ
جواب یہ ہے کہ اس وقت خیرالقرون والے امام صاحب کی بات کو یقینا باطل نہ کہتے
تھے بلکہ اس پر متفق تھے کہ شاید امام صاحب ہی حق پر ہوں تو احتمال حقانیت پر سواد اعظم متفق تھا ـ