فرمایا کہ یہاں پر میں نے سب رسموں کے چھڑانے کی کوشش کی ۔ گو وہ فی نفسہ مباح ہی ہوں کیونکہ اس میں عارضی مفاسد مگر دو رسموں کے چھڑانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان میں مصالح تھے ایک تو لڑکی کو ہفتہ دو ہفتہ کے لیے مائیوں بٹھانے کی رسم ہے مائیوں کے رسم کی حقیقت یہ ہے کہ چند مائیں یعنی گھر کی بڑی بوڑھی عورتیں جمع ہو کر مکان کے ایک گوشہ میں لڑکی کو لے کر بٹھلا دیتی ہیں اس وجہ سے اس کو مائیوں کہتے ہیں ۔ میں نے اس کو نہیں چھڑایا اس میں حیا کا تحفظ ہے اور ایک منہ پر ہاتھ رکھنے کی رسم ہے اس میں بھی تحفظ ہے حیاء کا اس سلسلہ میں فرمایا کہ عرب کے اندر رسم ہے کہ شوہر جب اول شب میں دلہن کے پاس آتا تو دلہن شوہر کے آتے وقت تعظیم کے لیے کھڑی ہوتی ہے اور سلام کرتی ہے اور شوہر اپنے زائد کپڑے جو اتارتا ہے ان کو لے کر سلیقہ سے موقع پر رکھتی ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ہے تو بہت اچھی بات فرمایا کہ واقعی اچھی بات ہے مگر ہندوستان کے لیے اس کو پسند نہیں کرتا اس لیے کہ وہاں پر تو یہ رسم بے تکلفی کے درجہ میں ہے اور یہاں پر کج طبعی کے سبب اس کا نتیجہ آزادی و بے حیائی ہو جائے گا جو چیز حیاء کا سبب ہو اس کو باقی رکھنے کو جی چاہتا ہے مگر یہاں حیاء اور بے حیائی کا امتحان بھی عورتیں بے اصولی کے ساتھ کرتی ہیں ۔ چنانچہ لڑکی کے گدگدی اٹھاتی ہیں اگر وہ ہنس پڑی تو بے حیاء اور نہ ہنسی تو حیاء دار اور ایک حرکت اس امتحان کے لیے اور کرتی ہیں کہ اول شب میں جب دلہا اور دلہن تنہائی میں ہوتے ہیں تو عورتیں کان لگاتی پھرتی ہیں کیونکہ یہاں پر یہ بھی رسم ہے کہ اول شب میں دلہن دلہا سے بھی نہیں بولتی ۔ اگر کوئی بولی تو صبح کو چرچا ہوتا ہے کہ ایسی بے شرم ہے کہ ساری رات میاں سے پڑپڑ بولتی رہی ، یہ عورتوں کا ایسا کرنا تانک جھانک لگانا خود بے شرمی پر مبنی ہے بڑی واہیات بات ہے ۔
