ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اموال کے متعلق احتیاط لوگوں میں بہت ہی کم رہ گئی ہے خصوص اہل مدارس میں ان کو مختلف مالیات سے سابقہ بھی زیادہ پڑتا ہے اس لئے یہ بہت کم احتیاط کرتے ہیں حضرت عمر فاروق کی بی بی کے لئے ہرقل کی بی بی نے ایک موتی نہایت قیمتی بھیجا حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ اگر یہ امیر المؤمنین کی بی بی نہ ہوتیں تب کہاں ملتا بیت المال میں داخل کر دیا ۔
( ملفوظ 588) بازار میں کھانے والے کی شہادت کیوں مقبول نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بازار میں کھانے والے کی شہادت اس وجہ سے معتبر نہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وقار نہیں سو احتمال ہو گیا کہ جھوٹ بولنے سے جو وقار کم ہو جاتا ہے شاید یہ اس کی بھی پرواہ نہ کرے ۔
( ملفوظ 587)مشتبہ کھانوں سے بزرگوں کی احتیاط
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں نے مال سے بچنے کا بھی بڑا اہتمام کیا ہے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی ایک شخص نے دعوت کی کھانا مشتبہ تھا آپ نے اس کی دلجوئی کے لئے کھا تو لیا مگر گھر پر آ کر قے کر کے نکال دیا ۔ اس میں ایک طالب علمانہ شبہ ہو سکتا ہے وہ یہ کہ تناول کا ارتکاب تو ہی چکا تھا جو مذموم ہے پھر ایسا کرنے سے کیا نفع ہوا جواب یہ ہے کہ ایک تو فعل ہے یعنی کھانا وہ تو بے شک واقع ہو چکا مگر دوسری چیز ہے جزو بدن بننا جزو بدن بننے سے جو ظلمت ہوتی اس سے بچاؤ کیا جیسا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بے خبری میں اجرت کہانت کا دودھ پی لیا تھا جس پر کوئی مواخذہ نہ تھا مگر پھر بھی خبر ہونے کے بعد قے کر دی اس کا بھی یہی نفع تھا حدیث :
کل لحم نبت من السحت فالنار اولی بہ
میں اس طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے باقی رہا شبہ مشتبہ کھانے کا تو وہ فتوی سے حرام نہ تھا دل جوئی کی مصلحت اور اس میں بھی کراہت پر راجح تھی یہاں جزو بدن بننے کی ایک ضروری تنبیہ ہے کہ اگر حرام کا تناول بقصد نہ ہو تو محض جزو بدن بن جانا موجب نار نہیں پھر اشارہ کی حقیقت یہ ہو گی کہ گو یہ خود معصیت نہ ہو گی مگر اس سے اب مادہ پیدا ہو گا کہ وہ معصیت کی طرف داعی ہو گا سو اگر کوئی مقاوم قوی نہ ہوا تو بواسطہ صدور احتیاری کے نار کے لئے موجب ہو جائے گا ۔
( ملفوظ 586)عید الاضحی کی نماز میں تعجیل سنت ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عید الفطر کی نماز ذرا دیر سے اور عید الاضحی کی نماز اس سے سویرے ہونے میں حکمت یہ ہے کہ اس میں صدقۃ الفطر کی تقسیم کی رعایت رکھی ہے اس لئے اس میں گنجائش وقت کی رکھی اور اس میں قربانی کی رعایت کی ہے کہ تعجیل مستحب ہے ۔
( ملفوظ 585)کیر بنیاد کدام مذہب است
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک گستاخ ہندو نے فارسی میں ایک کتاب منظوم لکھی ہے اس میں فتنہ پر اعتراض کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شعار سے ہے تو گویا ان کے مذاہب کی اس پر بنیاد ہے اور بدتہذیبی سے یہ مصرع لکھا ہے ” یقینم شد کہ بر کیر است بنیاد مسلمانی ” ایک صاحب نے نظم ہی میں اس کی کتاب کا جواب لکھا ہے چنانچہ اس تمسخر کا یہ جواب دیا ہے کہ کوئی اپنی بنیاد کو قطع نہیں کیا کرتا بنیاد تو اس پر تمہارے مذہب کی ہوئی کہ اس کو باقی رکھتے ہو نہایت لطیف جواب ہے وہ شعر مجھ کو یاد نہیں رہا مضمون یاد رہ گیا ۔
( ملفوظ 584)ایک جگہ نماز ہو جانا قربانی کیلئے کافی ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو لوگ یہاں مسجد خانقاہ میں نماز نہیں پڑھ سکتے وہ عید گاہ میں پڑھیں گے وہاں بعد میں ہوتی ہے کیا وہ لوگ نماز عید گاہ کے قبل قربانی کر سکتے ہیں فرمایا ہاں کر سکتے ہیں نماز ہو جانا چاہئے جہاں تعداد ہو ایک جگہ نماز ہو جانا کافی ہے قربانی کر سکتے ہیں ۔
( ملفوظ 583) ہمارے حضرات رازی و غزالی سے کم نہ تھے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رازی اور غزالی پیدا ہونا بند ہو گئے مگر بالکل غلط ہے ہمارے حضرات رازی اور غزالی سے کم نہ تھے علوم میں بھی کمال میں بھی بات یہ ہے کہ حیات میں قدر نہیں ہوتی مر جانے کے بعد رحمۃ اللہ علیہ اور پچاس برس گزر جانے کے بعد قدس سرہ ہو جاتے ہیں اور اس تماثل کے معلوم ہونے کا بڑا اچھا معیار ہے ان کی تحقیقات کو بھی دیکھ لیا جائے اور ان حضرات کو بھی اس سے معلوم ہو جائے گا ۔
10 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح بعد نماز عیدالاضحی 7 بجے یوم یکشنبہ
( ملفوظ 582) سلامتی فطرت کا نتیجہ اعتدال ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب طبیعت میں سلامتی ہوتی ہے ہر چیز اس کی معتدل ہوتی ہے ۔
( ملفوظ 581)زمیندار ، آسمان دار
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دنیا میں آسمان دار ہو کر رہنا چاہئے زمیندار ہو کر نہیں رہنا چاہئے میں تو سماع کے متعلق بھی اکثر کہا کرتا ہوں کہ پہلے اہل سماع اہل سماء تھے اور آج کل کے اہل سماع اہل ارض ہیں اس کے متعلق فرمایا :
ولکنہ اخلد الی الارض و اتبع ھواہ
سو اہل ارض ہونا کوئی کمال کی بات نہیں اہل سماء ہونا کمال کی بات ہے اس پر یہ شعر یاد آ گیا ۔
گدائے میکدہ ام لیک وقت مستی بیں کہ ناز برفلک و حکم برستارہ کنم
( ملفوظ 579)بدفہمی اور کم عقلی بری چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدفہمی اور کم عقلی بھی کم بخت بری ہی چیزیں ہیں ۔

You must be logged in to post a comment.