حضرت مولانا محمد قاسم صاحب میرٹھ میں مثنوی شریف پڑھاتے تھے ایک درویش بھی شریک ہوتے تھے کئی روز مثنوی شریف سن کر کہتے ہیں کہ مولانا اگر درویش بھی ہوتے تو کیا اچھا ہوتا انہوں نے ایک روز محبت سے کہا کہ میں آپ کو توجہ دینا چاہتا ہوں ذرا بیٹھ جایئے ان کی نیت یہ تھی کہ کسی کیفیت محمودہ کا مولانا پر القا کریں حضرت مولانا براہ تواضح بیٹھ گئے وہ متوجہ ہوئے تھوڑی ہی دیر میں گبھرا کر کہنے لگے کہ حضرت بڑی گستاخی ہوئی معاف فرمایئے مجھ کو کیا خبر تھی آپ کتنی دور پہنچے ہیں اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک صاحب سے جنہوں نے مولانا موصوف اور حضرت حاجی صاحب کا درس مثنوی سنا تھا کسی نے پوچھا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حاجی صاحب کے مثنوی پڑھانے میں کیا فرق ہے کہا کہ حضرت حاجی صاحب تو مثنوی پڑھاتے تھے اور مولانا نہ معلوم کیا پڑھاتے تھے عجیب جواب ہے دونوں پہلو نکل سکتے ہیں ایک درویش نے کہا کہ حضرت حاجی صاحب کا مثنوی پڑھانا ایسا ہے کہ مکان کے اندر لے جا کر کھڑا کر دیا کہ خود دیکھ لو ۔
( ملفوظ 578) مقتدا صرف مسلمانوں کے مقدس ہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مقتدا تو کسی مذہب کے بھی مقدس نہیں بجز مسلمانوں کے ۔
( ملفوظ 577)اسراف بخل سے زیادہ برا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پیوند زدہ کرتہ یا پیوند زدہ پاجامہ پہننا ذلت نہیں ذلت یہ ہے کہ کسی کے سامنے اپنی احتیاج پیش کی جائے خصوص دنیا داروں کے سامنے کیمیا گر کو دیکھ لیجئے لنگوٹا بندھا ہوتا ہے مگر بڑے بڑے دنیا دار پیچھے پیچھے پھرتے ہیں تو وہ کس چیز کی قدر اور عزت ہے صرف کمال کی عزت ہے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس زمانہ میں بقدر ضرورت پیسہ پاس رکھنا چاہئے آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے یہ زہد اور تقوی کے منافی نہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سال بھر کا صرفہ اپنی بیویوں کو عطاء فرما دیتے تھے افلاس بری چیز ہے اس سے کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے اس لئے میں اسراف کو بخل سے زیادہ برا سمجھتا ہوں گو لوگ اس کو زیادہ برا سمجھتے ہیں مگر وہ خود تو خوش ہے کہ ہمارے پاس ہے اور ہم نے کسی بخیل کو مرتد ہوتے نہیں دیکھا اور اسراف کرنے والے ہزاروں مرتد ہو گئے ۔
( ملفوظ 576) ایک کم سن بچہ کی صاف بات
ایک کم سن لڑکے نے آ کر کہا کہ بخار کا تعویذ دے دو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ لکھتا ہوں یہ فرما کر فرمایا کہ دیکھئے فطری چیز یہ ہے کہ اپنی حاجت صاف کہہ دی مگر اب لوگ فطرت کے خلاف اس کی تعلیم دیتے ہیں کہ یہ نہ کہنا چاہئے یہ نہ کرنا چاہئے تکلف سکھلاتے ہیں اصل فطرت بچوں کی ہے کہ وہ آ کر کہہ دیتے کہ فلاں چیز کا تعویذ دے دو ۔
( ملفوظ 575) امراء کی طرف طبعی میلان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امراء کی طرف طبعا میلان تو ہوتا ہی ہے اور یہ میلان مذموم نہیں جیسے کسی حسین کو دیکھ کر میلان ہوتا ہے ہاں اس کے مقتضاء پر عمل نہ کرنا چاہئے اگر ایسا کرے گا یہ مذموم ہو گا ۔
( ملفوظ 574) مسلمانوں کی ابتری کی ایک بڑی وجہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کی حالت روز بروز ابتر ہوتی چلی جاتی ہے ہر وقت دل کڑھتا ہے بڑی خرابی پیدا ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست خیال کر بیٹھے ہیں اگر حق کا اتباع کریں تو انشاء اللہ چند روز میں کایا پلٹ ہو جائے مگر سنتا کون ہے معاملہ بالکل اس کا مصداق ہو رہا ہے ۔
کون سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری
کوٹ پتلون والوں کی سننے ہیں ڈھلیے کرتے خلخلہ پاجامہ والوں کی کیا سنیں اور مجھ میں ذرا کہہ دینے کا مرض ہے تو میری شکایت ہوتی ہے میں اکثر یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
دوست کرتے ہیں شکایت غیر کرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھی کو سب برا کہنے کو ہیں
اور کبھی یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
خود گلہ کرتا ہوں اپنا تو نہ سن غیروں کی بات ہیں یہی کہنے کہ وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں ۔
اور کبھی یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں ۔
( ملفوظ 573) بزرگوں کے تعویذ لکھنے کا طریقہ
ایک دیہاتی شخص نے آ کر تعویذ مانگا فرمایا کہ صبح کے وقت تعویذ دینے کا معمول نہیں ہے بعد نماز ظہر تعویذ دیتا ہوں اس وقت آ جانا میں ان شاء اللہ تعویذ لکھ دوں گا اس سلسلہ میں فرمایا کہ میں جو تعویذ دیتا ہوں اس کی حقیقت یہ ہے کہ وقت پر مناسب اسی حالت کے جو آیت یا حدیث یاد آ جاتی ہے وہ لکھ دیتا ہوں باقی مجھے تعویذ گنڈوں سے قطعا مناسبت نہیں مگر حضرت حاجی صاحب نے فرما دیا تھا کہ اگر کوئی آیا کرے تو اللہ کا نام لکھ کر دے دیا کرنا اور میری ناواقفی کے عذر پر یہ بھی فرمایا کہ جو سمجھ میں آ جائے لکھ دیا کرو اس لئے میں لکھ دیتا ہوں اور بڑا تعویذ تو بزرگوں کا دعاء ہوتی ہے ۔ حضرت حاجی صاحب نے حکایت فرمائی تھی حضرت سید صاحب ہر تعویذ میں مرض کے لئے صرف یہ لکھا کرتے تھے خداوند تعالی اگر منظور داری حاجتش رابری ایک مرتبہ حضرت گنگوہی کے پاس ایک شخص نے آ کر غالبا یہ کہا کہ حضرت میرا نکاح نہیں ہوتا آپ نے تعویذ لکھ کر دیا اس میں یہ لکھا کہ اے اللہ میں کچھ نہیں جانتا اور یہ مانتا نہیں یہ تیرا غلام تو جانے اور تیرا کام بس نکاح ہو گیا ۔
9 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 572) تاج الاولیاء شیخ سعدی کا کلام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت شیخ سعدی کے متعلق بچپن میں میں نے ایک بزرگ سے سنا تھا کہ اس زمانہ میں ان کا لقب تاج الاولیاء تھا بہت لوگوں نے حکمت میں کلام لکھا ہے مگر ان کو نہیں پہنچ سکا وہ بات اخلاص کی قبول کی کوئی کہاں سے لائے گا ۔
( ملفوظ 571) غیر ضروری سوال پر علماء اور صوفیاء کا فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء سے تو کوئی غیر ضروری سوال کرے اس کا بھی جواب دے دیتے ہیں مگر صوفیاء کہتے ہیں کہ ایسے وقت چپ بیٹھے رہو اس کی وجہ سے وہ بڑی راحت میں ہیں ۔
( ملفوظ 570) اہل اللہ کی شان فنا اور چند واقعات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات اہل اللہ کی شان فنا ہی جدا ہوتی ہے اور اپنی جماعت کے بزرگ تو ایسے گم ہو کر رہتے تھے کہ کوئی نیا شخص جانتا بھی نہ تھا کہ یہاں پر کوئی رہتا بھی ہے بس اپنے کو مٹائے رکھتے تھے کیا انتہا ہے کہ حضرت مولانا دیوبندی کے یہاں ایک معمولی ہندو ایک مہمان کے ساتھ ٹھر گیا دوسری جگہ مہمان تھا دوپہر کو پڑا سو رہا تھا مولانا نے سوتے ہوئے پیر دبانا شروع کر دیئے مولوی محمود صاحب رامپوری مجھ سے اس حکایت کو بیان کرتے تھے کہ وہ پڑا ہوا خرخر کر رہا تھا اور حضرت مولانا پیر دبا رہے تھے یہ دیکھ کر دوڑے کہ حضرت میں دبا دوں گا سختی کے ساتھ ان کی درخواست کو مسترد کر دیا ایک مرتبہ حضرت مولانا دیوبندی اور میں ایک سٹیشن پر جمع ہو گئے یہ اسٹیشن مراد آباد کا واقعہ ہے سیوہارہ والے بھی جا رہے تھے ، انہوں نے حضرت سے سیوہارہ اترنے کی درخواست کی جو منظور ہو گئی مجھ سے بھی درخواست کی میں نے کسل طبع کا عذر کر دیا ان لوگوں نے کہا کہ ہم وعظ نہ کہلائیں گے میں نے سادگی سے کہا کہ بدون وعظ ہوئے تو روٹی کھاتے ہوئے بھی شرم معلوم ہوتی ہے تو حضرت کیا فرماتے ہیں ہاں بھائی ایسے بے شرم تو ہم ہی ہیں کہ بے کام کے روٹیاں کھاتے ہیں مجھ کو اس قدر شرمندگی ہوئی کہ معذرت بھی پیش نہ کر سکا یہ تو حضرت کی حالت خادموں کے ساتھ تھی متکبرین کی نسبت فرما دیا کرتے کہ ان کو تھانہ بھون بھیجنا چاہئے وہاں ان کا دماغ درست ہو گا اور یہ سب حضرت کی حالت تھی دوسرا کیا سمجھ سکتا ہے اور حال کی یہی شان ہے کہ جس پر گزرتا ہے وہی جانتا ہے دوسرا بیان نہیں کر سکتا خوب کہا گیا ہے ۔
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرانے کہ شمشیر بلا برسر خورند
میں ایک بزرگ کی حکایت بیان کر رہا تھا کہ یہ معلوم کر کے حضور صلی اللہ علیہ و سلم آٹے کو چھنواتے نہ تھے بے چھنے آٹے کی روٹی کھانے لگے جو کے چھلکے سخت ہوتے ہیں ان سے پیٹ میں درد ہو گیا اب ان کا ادب دیکھئے کہتے ہیں کہ یہ درد اس گستاخی کی سزا ہے کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مساوات کا دعوی کیا جس وقت میں یہ حکایت بیان کر رہا تھا میرے پاس ایک غیر مقلد صاحب بیٹھے تھے کہنے لگے کہ یہ تو خلاف سنت ہے میں نے کہا کہ آپ خاموش رہیں آپ اس واقعہ کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے جس کو خدا تعالی ذوق عطا فرماویں وہی سمجھ سکتا ہے بہت سی باتیں ذوقی ہوتی ہیں اس ذوق پر ایک اور بزرگ کا مقولہ یاد آ گیا وہ کہتے تھے کہ مجھ کو اس پر خوف ہے کہ کہیں یہ سوال نہ ہو کہ تو اتنا متقی کیوں تھا وجہ یہ کہ بعض اوقات یہ تقوی اس حد تک پہنچ جاتا ہے جو زہد بارد کہلاتا ہے مثلا ایک گیہوں کا دانہ راستہ میں پڑا ہوا مل جائے اس کو لے کر پوچھتا پھرے کہ یہ کس کا ہے اس کی نسبت فقہا نے فرمایا کہ یعزر یعنی اس کو قاضی کے یہاں حاضر کر کے سزا دلائی جائے گی معلوم ہوا کہ تقوی کی بھی حد ہے یہ معنی ہیں اس بزرگ کے مقولہ کے ۔

You must be logged in to post a comment.