ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے فقہا نے لکھا ہے کہ اگر مالی جرمانہ کرے تو اس کی جائز صورت یہ ہے اس کو محفوظ رکھے اور پھر اس کو واپس کر دے تصرف کے لئے اس کا رکھنا جائز نہیں کیسی حکمت کی بات ہے ـ
29 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 523)حضرت حاجی صاحب کی حضرت تھانوی سے محبت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے درسی کتابوں کے سوا اور کوئی کتاب نہیں دیکھی یہ دوسری بات یہ ہے کہ کسی مضمون کی ضرورت ہوئی اسکی تلاش میں کوئی اور مضمون بھی نظر سے گذرا گیا اس لئے کہ کوئی نشانی تو اس مقام پرہوتی نہیں کہ کھول کر اس کو ہی دیکھ لیا جائے ہاں بالاستیعاب کوئی کتاب بھی نہیں دیکھی کچھ دیکھی اور چھوڑ دیا ـ حالانکہ مجھ کو تصوف کا بیحد شوق ہے مگر کوئی کتاب اس کی بھی پوری نہیں دیکھی اور چھوڑ دیا مگر یہ سب ظاہرا اپنے بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ اور حقیقۃ حق تعالی کا فضل ہے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ دل سے یہ چاہا کرتے تھے کہ یہ بات کو سمجھ لے سو جو ان حضرات نے چاہا وہ ہو گیا شیخ کو اپنے معتقد سے جتنی محبت زیادہ ہوگی اتنا ہی فیض ہوگا عادت اللہ اس طرح ہے حضرات کے تعلق کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ ند وہ والوں نے حضرت سے میری شکایت کی کہ وہ ہم سے مخالفت کرتے ہیں حضرت نے جواب میں فرمایا کہ اس میں تو مادہ ہی نہیں مخالفت کرنے کا یہ دیکھئے حضرت نے کس طرح پہچان لیا حالانکہ میں میں نے کبھی کوئی بات حضرت کے سامنے نہیں بگہاری یہ حضرت کا نور قلب اور فراست تھی اہل ندوہ نے حضرت سے درخوست کی کہ ہمارے ساتھ شریک نہیں اس کو لکھ دیجئے کہ وہ ہمارے ساتھ ہو جائے حضرت نے مجھ کو تحریر فرمایا کہ وہاں کی مصلحت اور معاملات کو نہیں سمجھ سکتے ہو جو مصلحت ہو اس پر عمل کیا جائے وہ خط ندوہ والوں نے میرے پاس بھیج دیا میں نے دیکھ کر کہا کہ تم نے تو میرے خیال پر رجسٹری کرادی اب میری مصلحت یہی ہے کہ میں شریک نہ ہوں یہ حضرت کی فہم و فراست تھی کہ مجھ کو مجبور نہیں کیا ـ کیا ٹھکانا ہے اس بصیرت کا لکھتے ہیں کہ جو وہانکی مصلحت ہو وہ کرنا یہ شان ہوتی ہے ان حضرات کی تحقیق کی کہ غائب چیز میں قطعا دخل نہیں فرمایا ایک زمانہ میں حضرت سے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی بہت شکایت کی گئی حضرت نے مولانا کو میرے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ تم بالکل بے فکر رہو مجھ پر شکایت کا کوئی اثر نہیں مجھ کو تمہارے ساتھ حب فی اللہ ہے سو جیسے اللہ کو بقاء ہے حب فی اللہ کو بھی بقاء ہے عجیب شان کی تحقیق ہے اگر تمام دنیا کے مدبر اور فلاسفر بھی جمع ہو جائیں تو ایسی بات نہیں کر سکتے اور حضرات کے یہاں یہ روزانہ کی باتیں تھیں واقعہ یہ ہے کہ حضرت اپنے فن کا امام تھے مجتہد تھے مجدد تھے ـ
( ملفوظ 522)بزرگوں کا عمل علم پر غالب تھا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دیوبند میں کیسے کیسے حضرات تھے چند ہی روز میں کیا سے کی ہو گیا اب ان حضرات کو آنکھیں ڈھونڈتی ہیں اور جواب موجود ہیں اور جگہ سے پھر بہتر ہیں مگر ہیں عملی قوت گھٹ گئی باقی علمی قوت اب بھی ہے اور ان حضرات کی عملی قوت غالب تھی علمی قوت پر ـ
( ملفوظ 521)بزرگوں کے ساتھ تعلق رنگ لاتا ہے اور بزرگوں کے موہم کلمات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات کا تعلق رنگ لائے خالی نہیں جاتا حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید تھے منشی تجمل حسین یہ دنیا دار تھے اور ان کے ایک بھائی تھے منشی عبدالباسط یہ نقشبندی شیخ تھے وہ اپنے بھائی سے کہتے مجھے بھی بیعت کر لو جواب دیتے کہ حضرت حاجی صاحب کا تعلق کافی ہے باقی میں ہی کچھ نہ کروں یہ میری کوتاہی ہے منشی تجمل حسین کی موت کا وقت آیا سکرات کی حالت میں کلمہ کی تلقین کی جاتی تھی مگر ان کو ہوش نہ تھا منشی عبدالباسط عین اس وقت کہنے لگے کہ کہاں ہے وہ حضرت حاجی صاحب کا تعلق اب کیسی سختی ہو رہی ہے سخت تکلیف کا وقت تھا مگر آنکھ کھول دی آیت پڑھی ـ یٰلیت قومی یعلمون بما غفر لی ربی وجعلنی من المکرمین حضرت حاجی صاحب کے بعض خدام نے کہا دیکھا حضرت کا تعلق ـ دوسروں کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا غلطی ہے نہ معلوم خدا کے ساتھ اسکا کیا معاملہ ہے کسی پر بدگمانی ہرگز جائز نہیں بعض بزرگوں نے لا الہ الا اللہ موسی کلیم اللہ کہا اور دم نکل گیا لا الہ الا اللہ عیسی روح اللہ ۔ کہا دم نکل گیا بعضے خشک لوگ سمجھ گئے کہ یہودی عیسائی ہو کر مرا مگر معلوم بھی ہے کہ کلمہ اسلامیہ ہی پر خاتمہ ہوا راز اس کا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام شیون کمالیہ کے جامع ہیں تو موسی سے مراد ایک خاص شان کے اعتبار سے حضور ہی ہیں اسی طرح عیسی سے مراد حضور ہی ہیں حضرت نجم الدین کبری بہت بڑے شخص ہیں ان کو تمنا تھی کہ مجھ کواپنا مقام معلوم ہوا ایک بزرگ تھے اس ہی زمانہ میں تو شیخ نجم الدین کبری کا ایک مرید ان سے ملنے گیا شیخ نجم الدین نے ان کو سلام کہلا بھیجا انہوں نے سلام کے جواب میں فرمایا کہ اپنے یہودی پیر سے ہمارا بھی سلام کہہ دینا اس مرید کو برا معلوم ہوا اور بہت ہی غصہ آیا مگر شیخ سے سنے ہوئے تھا کہ بہت بڑے شخص ہیں کچھ بولا نہیں پیر کے پاس حاضر ہوا انہوں نے سب حال دریافت کیا عرض کیا اور یہ بھی دریافت فرمایا کہ کچھ کہا تو نہیں عرض کیا کہ سلام کہہ دیا ہے فرمایا کہ نرا سلام ہی ہے یا کچھ اور بھی کہا عرض کیا کہ ایسی بات کہی جس کا عرض کرنا خلاف ادب ہے فرمایا بیان کرو تم تھوڑا ہی کہہ رہے ہو عرض کیا کہ یہ فرمایا کہ اپنے یہودی پیر سے ہمارا بھی سلام کہہ دینا مجھ کو تو اس وقت بڑا غصہ آیا مگر یہ سن کر نجم الدین پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور یہ فرمایا کہ اپنا مقام معلوم ہو گیا میں موسوی المشرب ہوں مجھ کو شبہ تھا سو ان بزرگ نے بتلا دیا اور مرید سے کہا کہ تم خواہ مخواہ ان پر خفا ہوتے ہو سو اس طریق میں جیسے بعض حقائق غامض ہیں اسی طرح بعض عنوانات بھی نیز عنوانات غیر غامضہ میں بھی بعض بلسان العق ہوتے ہیں اور بعض بلسان العشق بعضے لوگ اس میں خلط کر دیتے ہیں میرا ایک وعظ ہے روح الارواح اس میں ایک مقام پر حضرت حاجی صاحب کا ذکر آ گیا اس وقت مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ حضرت حاجی صاحب کی تعظیم و تکریم سب رحصت ہو گئی حضرت کے لئے نہ الفاظ تعظیم رہے نہ جمع کا صیغہ رہا صرف ایسے الفاظ تھے کہ یہ شخص ایسا تھا اپنے فن کا امام تھا مجتہد تھا مجدد تھا تھانہ بھون کا شیخ زادہ تھا معمولی صورت سے رہتا تھا مگر اس غیر تعظیمی عنوان کا یہ اثر تھا کہ مجمع میں چیخ و پکار پڑ رہی تھی کوئی ایسا شخص نہ تھا جس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں تو یہ کہنا بلسان العشق تھا گویا یہ شخص ناطق ہے جو قانون سے آزاد ہے اس کی نظیر ملاحظہ فرمائیے ـ کچہری میں ایک معمولی آٹھ دس روپیہ کا ملازم بڑے بڑے معززین کو اس طرح آواز دیتا ہے کہ فلاں گواہ حاضر ہے تو کیا وہ اس کی زبان ہے یا حاکم کی زبان ہے صاف ظاہر ہے کہ حاکم کی زبان ہے تو اگر کبھی یہ حضرات بھی اس زبان عشق سے کچھ کہہ دیا کریں تو کیا جرم ہے ساری کچہری ایسے تصوف سے بھری پڑی ہے ـ
( ملفوظ 520) بزرگوں کی سادہ باتوں میں اثر ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی معمولی باتوں میں بھی برکت ہوتی ہے حتی کہ کھانے پینے کی چیزوں کا ذکر بھی کریں تو اس میں بھی ایک خاص برکت ہوتی ہے علاوہ برکت کے اس میں کشش بھی ہوتی ہے حضرت غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے پڑھ کر آئے وعظ کہا بہت زور لگایا سامعین پر کچھ بھی اثر نہ ہوا اسکے بعد حضرت ممبر پر بیٹھے اور کچھ بیان بھی نہیں کیا صرف یہی فرمایا کہ رات ہم نے سحری کے لئے دودھ رکھا تھا لیکن بلی پی گئی حق جل علاشانہ کا ارادہ غالب رہتا ہے توحید کا بیان کرنا مقصود تھا یہ کہنا تھا کہ تمام مجلس لوٹ پوٹ ہو گئی تڑپ گئی اب بتلایئے کون سا ایسا عالی مضمون تھا ان حضرات کے اقوال افعال سب میں نور ہوتا ہے ـ
( ملفوظ 519) حافظ شیرازی شاعر اور مفسر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حافظ شیرازی رند مشہور ہیں میں بھی پہلے یہی سمجھتا تھا کہ آزاد ہوں گے مگر میں نے ایک کتاب دیکھی حیات حافظ اس میں ان کی سوانح ہے اس سے معلوم ہوا کہ مفسر ہیں کشاف کے محشی ہیں طلبہ تفسیر پڑھنے ان کے پاس آتے تھے عالمانہ وضع میں رہتے تھے دیوان میں بہت سے مسائل ہیں اصولیہ کلامیہ ـ ایک مولوی صاحب ان کے معتقد نہیں تھے میں نے بھی معتقد بنانے کا اہتمام نہیں کیا کیونکہ کسی امتی کا معتقد ہونا فرض و واجب نہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو اسی طرح رہنے دو اہتمام تو ضروری چیز کا کرنا چاہئے البتہ گستاخی کرنا برا ہے ـ
( ملفوظ 518) علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ابن تیمیہ اور ابن القیم اہم استاد شاگرد ہیں مگر غصیارے بہت ہیں باقی ہیں ذہین اور سلطان القلم بہت تیز چلتے ہیں موٹر سے بھی زیادہ پھر نہیں مگر یہ طرز شان تحقیق نہیں ـ
( ملفوظ 517)طریق تصوف کی تکمیل اور اس کا احیاء
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ صرف نفلیں اور وظائف کے پڑھ لینے کو انتہائی کمال سمجھتے ہیں حالانکہ کہ کوئی کمال کی چیز نہیں ہاں ثواب کی چیزیں ہیں جو کمال پر موقوف نہیں کمال پیدا ہوتا اصلاح کے بعد اور اصلاح کا ہونا عادۃ موقوف ہے صحبت کامل پر مگر نری صحبت بھی کار آمد نہیں جب تک کہ اعمال ماموربہ کا اہتمام نہ ہو یہی اعمال اصل سلوک ہیں بدون ان کے اختیار کئے ہوئے کوئی شخص منزل مقصود تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اگرچہ وہ آسمان پر پرواز کرنے لگے یا دریا پر بدون کشتی اور جہاز کے چلنے لگے حقیقت یہ ہے مگر آج کل جاہل صوفیوں نے لوگوں کی راہ ماری ہے اور گمراہ کیا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب طریق بالکل زندہ ہوگیا ـ مدتوں کے بعد یہ نصیب ہو اور یہ میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ بطور نعمت کے عرض کر رہا ہوں وہ جس سے چاہے اپنا کام لے سکتے ہیں طریق سے لوگوں کو اجنبیت اور وحشت ہو چکی تھی وہ اس کو دین سے خارج سمجھ چکے تھے اب الحمد اللہ طریق کی تکمیل ہو گئی ـ
29 صفر المظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت خاص صبح یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 516)انگریزوں کا غرض پر مبنی ظاہری اخلاق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر انگریز ظاہرا بہت ہی خلیق ہوتے ہیں گو یہ اخلاق ان کا اکثر غرض پر مبنی ہوتا ہے مگر اس کی وجہ سے دوسرا آدمی فورا مسخر ہو جاتا ہے جس کا اثر بعض اوقات دین پر بھی پڑتا ہے اسی لئے ایک تجربہ کا فتوی ہے کہ بلا ضرورت سخت ان سے نہ ملنا چاہئے یہ بہت ہی جلد مسخر کر لیتے ہیں ان میں یہ خاص بات ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالی کا بڑا فضل ہے کہ انگریز میں دو چیزیں رکھ دیں ورنہ اب تک نصف ہندستان عیسائی ہو جاتا ـ ایک کبر اور بخیل بڑے کام کی بات فرمائی مگر جس میں یہ بات نہ ہو ـ وہ اس میں داخل نہیں ـ بعض احکام قوم کے ہوتے ہیں آحاد ( خاص ) و افراد کے نہیں ہوتے ـ
( ملفوظ 515)بات صاف کہنا اور آج کل کے محاورے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں ایک یہ بھی مستقل تعلیم ہے کہ بات صاف کہو مجھے آج کل کی تہذیب سے سخت نفرت ہے جیسے عام محاورہ ہو گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے حالانکہ استفہام مقصود نہیں ہوتا یہاں ایک صاحب مقیم تھے وہ کسی کو اسٹیشن پر پہنچانے کے لئے جانا چاہتے تھے مجھ سے اجازت لینے آئے سیدھی بات یہ تھی کہ میں اسٹیشن جانے کی اجازت چاہتا ہوں مگر اس کے بجائے یوں فرماتے ہیں کہ کیا میں اسٹیشن جا سکتا ہوں میں نے کہا کہ کیوں نہیں جا سکتے خدا نے پاؤں دیئے چلنے کو ـ آنکھ دی دیکھنے کو قوت ارادیہ دی ارادہ کرنے کو ارادہ کیجئے اور تشریف لیجائیے چلنا شروع کیجئے پہنچ جاؤ گے کیا خرافات ہے اور کیا مہمل بات ہے غالبا یہ عسائیوں سے لیا ہے اور ان میں یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ نیا محاورہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام سے کہا تھا ـ ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء ۔ ان عسائیوں سے مسلمانوں نے یہ محاورہ سیکھ لیا ہے دوسروں کی نقالی کرنا تو اس وقت مسلمانوں کے لئے بعث فخر ہو گیا ہے ہونا تو یوں چایئے تھا کہ دوسرے لوگ ان کی وضع اختیار کرتے مگر انہوں نے سب سے پہلے پیش قدمی کی اور دوسروں کی وضع اور طرز اختیار کیا ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

You must be logged in to post a comment.