ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں میں سخاوت اور رحم کی صفت بہت زیادہ ہے نیز ان کے دلوں میں خدا کی محبت بھی سب محبتوں پر غالب ہے کتنا ہی فاسق فاجر مسلمان ہو مگر جب موقع آتا ہے اس محبت ہی کی وجہ سے خدا کی راہ میں جان دینے کوتیار ہو جاتا ہے ـ
( ملفوظ 211)ایک صاحب کا دس سال بعد اپنی کوتاہی سے رجوع
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب کسی کی معزرت کو آئے تھے ان سے جو دس برس پہلے بات کہی گئی تھی اب اسکو کرنے پر آمادہ ہوئے میں نے وہی شرط لگائی کہ معافی کا اعلان کرو بذریعہ اشتہار اب آمادہ ہوئے ہیں لفظ آمادہ پر مزاحا فرمایا کہ پہلے نر بنے ہوئے تھے اب مادہ ہوئے میں اسی وقت رعونت کو توڑنا چاہتا تھا ـ
(ملفوظ 210) جاہ کے اثر سے کام نہ لینا
فرمایا کہ جاہ کے اثر سے کسی سے کام نہیں لیتا خواہ اس کی ساتھ کتنی ہی خصوصیت ہو یوں اپنی محبت سے کوئی کام کردے یہ دوسری بات ہے ـ
( ملفوظ 209)معزرت کے لینے پر دل صاف ہو جانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے دل میں کوئی کدورت نہیں رہتی جہاں کسی نے معزت کی میں بالکل پگھل جاتا ہوں اور جو شخص حق کی طرف رجوع کرتا ہے پھر میں اس سے زیادہ کنج وکاؤ نہیں کرتا اس سلسلہ کو بہت جلد ختم کر دیتا ہوں اور جو کچھ پوچھ کرتا بھی ہوں وہ محض اسکے دیکھنے کو کہ یہ سمجھ بھی گیا اپنی غلطی کو یا نہیں سو اس میں بھی مخاطب ہی کی مصلحت ہوتی ہے میری کوئی مصلحت نہیں ہوتی ـ
( ملفوظ 208) اخبارات کی مزمت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں اکثر اخباروں کو نہایت ذلیل صحیفے سمجھتا ہوں انکی بدولت لوگوں کے دین کو بڑا نقصان پہنچا آجکل لوگ اخبار میں اپنا نام آجانے کو باعث فخر خیال کرتے ہیں اور مجھے اس سے نفرت ہے ـ
7 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ
( ملفوظ 207)کسی کی اصلاح عین خوش اخلاقی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو ہر بات کی چھان بین کرتا ہوں اور کھود کرید کرتا ہوں اس کو لوگ بد اخلاقی سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ میری اس بد اخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے اخلاق درست ہوں اسکے لئے انتظام کرتا ہوں اس کو بد اخلاقی سمجھا جاتا ہے حالانکہ کسی کی درستی کرنا عین شفقت و خوش اخلاقی ہے ـ آجکل تو یہ حالت ہے کہ عوام کو دیکھئے خواص کو دیکھئے انگریزی دانوں کو دیکھئے عربی نوجوانوں کو دیکھئے سب کی ایک حالت ہے الا ماشاءاللہ ان سب کی موزی حرکات کا منشاء بے فکری ہے فکر سے کام نہیں لیتے اگر فکر سے کام لیں تو دوسرے کو تکلیف یا اذیت نہ پہنچے دوسروں کو وہی اذیت سے بچا سکتا ہے اور وہی دوسروں کا ہلکا رکھ سکتا ہے جو اپنے اوپر بوجھ اٹھائے اور خود تکلیف برداشت کرے میں الحمداللہ خود بوجھ اٹھاتا ہوں اور دوسروں کو ہلکا رکھتا ہوں ـ
( ملفوظ 206) حکم شرعی کے اسرار اور حکمیتیں معلوم کرنیکا مرض
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر حکم کی حکمتیں اور اسرار معلوم کرنے کا مرض عام ہو گیا ہے اور یہ سبق زیادہ تر نیچریوں سے لوگوں نے حاصل کیا ہے اس سے بچنا چاہیئے حضرت مجدد صاحب کا قول ہے کہ احکام میں حکمتوں کا اور اسرار کا تلاش کرنا مرادف ہے انکار نبوت کا یہ نبی کا اتباع نہیں حکمت کا اتباع ہے جب نبی کو نبی مان لیا پھر لم کیف کرنا کیسا سچ تو ہے کہ پورے حقوق جبھی ادا ہوتے ہیں جب عشقی تعلق ہو ـ بدون اسکے خطرہ ہی رہتا ہے گو خطرہ کا مقابلہ اختیاری ہے ـ
( ملفوظ 205)ادب میں اعتدال :
ایک شخص نے آکر مصافحہ کیا اور کچھ ایسے عنوان کے ساتھ کہ جس میں ادب کا لحاظ نہ تھا اسپر فرمایا کہ اعتدال بالکل گم ہو گیا اگر ادب کریں گے تو حد عبادت تک پہنچ جائیں گے اور بے تکلفی اختیار کرنیگے تو بہودگی اور بد تمیزی کے درجہ تک پہنچ جائیں گے آدمیت اور سلیقہ کا نام و نشان باقی نہ رہا ـ
( ملفوظ 204) اپنے مصلح سے متعلق شبہ کے حل میں احتیاط
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جس سے اصلاحی تعلق ہوا اگر اس پر کوئی شبہ ہو تو اس کے متعلق خود اس سے تسلی کرنا نہ چاہئے نہ اسکے متعلقین سے اس سے اسکو طبعا انقباض ہوگا اور انقباض کی حالت میں کوئی نفع نہیں ہوگا جواب میں اس لئے پس و پیش کریگا اس میں ایک گو نہ خود غرضی کا شائبہ ہے اور اسکے متعلقین سے اس لئے کہ ان کو اس سے رنج ہو جائیگا یہ طریق بہت ہی نازک ہے اسکے ہر قدم پر سخت احتیاط کی ضرورت ہے ـ
7 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 203) لوگوں کی شکایت اپنے دکھ کا اظہار
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگ اسکی شکایت کرتے ہیں کہ ہم گئے تھے ہماری طرف توجہ نہیں کی عجیب بات ہے میں جو اسوقت یعنی صبح کو بیٹھتا ہوں جو کہ خلوت کے کاموں کا وقت ہے مگر عام منظر پر بیٹھتا ہوں تو ان آنے والوں ہی کی وجہ سے کہ کسی کی ضرورت میں حرج نہ ہو اور ان لوگوں کی وجہ سے کہ کسی کی ضرورت میں حرج نہ ہو اور ان ہی لوگوں کی وجہ سے جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف توجہ نہیں کرتا انکے آنے کے وقت اپنا کام چھوڑ دیتا ہوں بعض وقت کام کی وجہ سے بات کرنیکو جی نہیں چاہتا مگر کرتا ہوں سو اسقدر تو رعایت مگر اسپر بھی الزام دیا جاتا ہے اور بدنام کیا جاتا ہے اور توجہ کس کو کہتے کیا گود میں لیکر بیٹھنے کو توجہ کہتے ہیں بات سننے کو توجہ نہیں کہتے ـ

You must be logged in to post a comment.